Urdu book · دین و شریعت

افتراق امت

Urdu book, p. 312

By Maulana Wahiduddin Khan

واقعات بتاتے ہیں کہ امت مسلمہ میں بھی اسی قسم کے غلو یا انتہا پسندی کے مظاہر پیدا ہوئے۔ وہ آج بھی جاری ہیں۔ اس طرح غلو آمیز عقائد یا انتہا پسندانہ دینی فکر کے نتیجہ میں بار بار مختلف قسم کے انحرافی ماڈل بنتے رہے۔ مثلاً خارجی ماڈل جو تحکیم کے مسئلہ میں غلو کر کے بنا۔ اسی طرح شیعی ماڈل جو اہل بیت کے معاملہ میں غلو کی بنیاد پر بنایا گیا۔ اسی طرح معتزلی ماڈل جو عقلیت میں غلو کرنے کی وجہ سے بنا۔ اسی طرح قبوری ماڈل جو اولیاء اللہ کے تصور میں غلو کر کے بنایا گیا، وغیرہ وغیرہ۔ غلو یا انتہاء پسندی کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانہ میں مودودی ماڈل اسی قسم کی ایک مثال ہے جو سیاست میں غلو یا انتہا پسندی کی بنیاد پر بنایا گیا۔ اسی طرح انقلابی ماڈل جو جہاد میں غلو کر کے بنایا گیا ہے، وغیرہ۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ ارشاد پر غور کیجئے جس میں آپ نے فرمایا کہ اہل ہدایت اور اہل نجات وہ ہوں گے جو میرے طریقہ اور میرے اصحاب کے طریقہ کو اختیار کریں (من کان علی ما أنا علیہ وأصحابی)۔ اس ارشادِ رسول کے مطابق یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کا مطلوب ماڈل وہ ہے جو پیغمبرانہ ماڈل یا صحابہ ماڈل ہو۔ قرآن سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن میں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ (نمونہ) کو اسوہ حسنہ قرار دیتے ہوئے اس کو اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے (الاحزاب ۲۱)۔ اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ہدایت یاب وہ لوگ ہیں جو صحابہ کے ایمان کے مثل ایمان کا ثبوت دیں (البقرہ ۱۳۷)۔ اس کے مطابق، اللہ کا مطلوب ماڈل وہ ہے جو مسنون ماڈل ہو، یعنی جو رسول اور اصحاب رسول کی زندگیوں کے مطابق ہو۔ اس کے مقابلے میں انحرافی ماڈل وہ ہے جو سنتِ رسول اور سنت صحابہ سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔ انحرافی ماڈل کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ کھلے طور پر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوگا۔ اگر ایسا ہو تو لوگ فوراً ہی اس کو اس طرح رد کر دیں گے کہ امت کے اندر وہ ماڈل کی حیثیت اختیار نہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page