Urdu book · دین و شریعت

افتراق امت

Urdu book, p. 313

By Maulana Wahiduddin Khan

کر سکے گا اور اس کی بنیاد پر گروہ بندی ممکن ہی نہ ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ انحرافی ماڈل ہمیشہ مشابہ ماڈل ہوتا ہے وہ ظاہری طور پر اسلام سے ملتا جلتا ہے۔ اسی مشابہت کی بنا پر بہت سے لوگ غلط فہمی میں پڑ کر اسے اختیار کر لیتے ہیں۔ حدیث میں بعد کے اس دورِ فساد کے بارے میں بہت سی تفصیلات آئی ہیں۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ انحرافی ماڈل کے قائدین بظاہر قرآن و حدیث کی زبان بولیں گے (ويتكلمون بألسنتنا) بظاہر وہ اتنے شاندار ہوں گے کہ ان کے ایک شخص کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ کتنا زیادہ عاقل ہے، وہ کتنا زیادہ صاحب ظرف ہے، وہ کتنا زیادہ قوی ہے۔ حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہوگا۔ (ويقال للرجل: ما أعقله ! وما أظرفه ! وما أجلده ! وما في قلبه مثقال حبّة من خردل من ايمان ، (مشكاة المصابيح (۱۲۸۱/۳) تاہم ان تمام ظاہری خوش نمائیوں کے باوجود ان میں ایک ایسی صفت ہوگی جس کی وجہ سے ان کو پہچانا اہل بصیرت کے لئے ناممکن نہ ہوگا۔ حدیث کے الفاظ میں وہ صفت یہ ہے "تعرف منهم وتنكر “ (متفق علیہ) یعنی تم ان میں کچھ معروف چیز دیکھو گے اور اسی کے ساتھ کچھ منکر چیز بھی۔ چنانچہ ایسا ہوگا کہ جب اہل بصیرت اس کے منکر پہلو کو دیکھیں گے تو وہ فوراً اس کی تحقیق شروع کر دیں گے۔ یہاں تک کہ وہ اس کے انحراف کے معاملے کو دریافت کر لیں گے۔ فیصلہ کا معیار انحرافی ماڈل کو پہچاننے کا معیار کیا ہے؟ اس کو مذکورہ حدیث میں واضح الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”من كان علی ما أنا عليه و أصحابی“۔ اس قول رسول کے مطابق، انحرافی ماڈل کو پہچاننے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو رسول اور اصحاب رسول کے نمونہ کی روشنی میں جانچا جائے۔ اگر وہ رسول اور اصحاب رسول کے نمونہ کے مطابق ہو تو وہ مطلوب اور مسنون ماڈل ہے۔ اور اگر وہ رسول اور اصحاب رسول کے نمونہ کے مطابق نہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page