افتراق امت
Urdu book, p. 314
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو تو وہ انحرافی ماڈل ہے، اور اس بنا پر وہ قابلِ تردید ہے۔ ۱۔ مثال کے طور پر شیعی ماڈل کو لیجئے۔ شیعی ماڈل رسول اللہ ﷺ سے نسبی تعلق کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ یعنی جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبی تعلق رکھتا ہو، وہی امامت اور خلافت کا مستحق ہے۔ اس کے سوا اگر کوئی اور شخص امامت و خلافت کے منصب پر پہنچ جائے تو اس کی حیثیت غاصب کی ہوگی۔ یہ نظریہ سراسر خود ساختہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بھی قول یا عمل اس نظریہ کی تصدیق نہیں کرتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اس قسم کی کوئی وصیت نہیں کی کہ میرے بعد تم لوگ میرے قریبی عزیز کو امام یا خلیفہ بناؤ۔ اس سلسلہ میں جو بھی حدیثیں پیش کی جاتی ہیں وہ سب کی سب موضوع ہیں اور اس کی کوئی اصل نہیں۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں مودودی ماڈل کو لیجئے، یہ سراسر مذکورہ معیار کے خلاف ہے۔ یہ ماڈل اس نظریہ پر قائم کیا گیا ہے کہ اہل اسلام کا مشن یہ ہے کہ وہ ساری دنیا کو اپنے سیاسی قبضہ میں لے کر ہر جگہ اسلامی قانون یا الہی قانون کو نافذ کریں، خواہ وہ غیر مسلم ملک ہو یا مسلم ملک۔ یہ نظریہ بھی سراسر خود ساختہ ہے۔ اس نظریہ کا تعلق امت کے فرض منصبی سے ہے۔ اور فرض منصبی جیسا اہم حکم قرآن وحدیث سے منصوص طور پر نکلنا چاہئے نہ کہ قیاس اور استنباط کے ذریعہ۔ مگر جیسا کہ ہم دوسرے مضامین میں واضح کر چکے ہیں، یہ نظریہ براہ راست نص کے ذریعہ نہ قرآن سے نکلتا ہے اور نہ حدیث سے، اور فرض منصبی جیسے اہم معاملہ میں قیاسی اور استنباطی استدلال سرے سے جائز (valid) ہی نہیں۔ جہاں تک صحابہ کا تعلق ہے، ان کے عمل سے بھی اس نظریہ کی تصدیق نہیں ہوتی۔ جیسا کہ معلوم ہے، چوتھے خلیفہ راشد کے بعد بنی امیہ کی جو سلطنت قائم ہوئی اس میں ہر قسم کا سیاسی بگاڑ آگیا۔ اس زمانہ میں صحابہ ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے مگر ان صحابہ نے کبھی اس سیاسی بگاڑ کے خلاف بغاوت کی تحریک نہیں چلائی۔ انہوں نے اس سیاسی نظام کو ایک امر واقعہ کے طور پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader