افتراق امت
Urdu book, p. 315
By Maulana Wahiduddin Khan
قبول کر لیا اور غیر سیاسی قسم کے دوسرے دینی کاموں میں اپنے آپ کو مشغول رکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق ، وہ اس اصول پر قائم رہے کہ : ادوا اليهم حقهم و سلوا الله حقکم (مسند احمد ۳۸۴٫۳)۔ ان کا حق ان کو ادا کرو، اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔ یہ کوئی سادہ یا اتفاقی بات نہیں۔ یہ ایک ابدی قسم کی پیغمبرانہ تعلیم ہے۔ چنانچہ بائبل میں آیا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں کچھ لوگوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ جو قیصر کا ہے قیصر کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو (مرقس، باب ۱۲)۔ اس پیغمبرانہ ہدایت سے ایک اہم حکمت معلوم ہوتی ہے وہ ہے۔ حکمرانوں سے سیاسی نزاع نہ کرتے ہوئے غیر سیاسی میدان میں اپنا عمل جاری کرنا۔ یہ اصول اس امر واقعہ پر مبنی ہے کہ ہر سماج اور ہر نظام میں ہمیشہ کام کے بہت سے میدان ہوتے ہیں۔ ان میں سے سیاسی میدان صرف ایک میدان ہے۔ اگر سیاسی میدان میں حکمرانوں سے ٹکراؤ شروع کر دیا جائے تو یہ ہوگا کہ ساری طاقت حکمرانوں سے بے فائدہ نزاع میں ختم ہو جائے گی، اور غیر سیاسی میدانوں میں کام کے جو مواقع ہیں وہ غیر استعمال شدہ پڑے رہیں گے۔ اس کے برعکس اگر حکمرانوں سے اعراض کی پالیسی اختیار کی جائے تو ایک میدان عمل کو چھوڑ کر ۹۹ میدانوں میں بھر پور کام کے مواقع مل جائیں گے۔ یہ عمل کی وہ ربانی حکمت ہے جس کی تعلیم ہر پیغمبر نے اپنے پیروؤں کو دی اور یہی حکیمانہ تعلیم پیغمبر آخر الزماں نے بھی اپنی امت کو دی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بنی امیہ کے دور میں اصحاب رسول نے پوری طرح اس تعلیم پر عمل فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ سیاسی ماڈل مکمل طور پر صحابہ کے ماڈل کے خلاف ہے جو یہ بتاتا ہے کہ حکمرانوں سے لڑ کر ان سے اقتدار کی کنجیاں چھین لو تا کہ تم اسلام کے سیاسی نظام کو زمین پر نافذ کر سکو۔ چند مثالیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری مرض میں مبتلا ہوئے تو وفات سے پانچ دن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader