افتراق امت
Urdu book, p. 316
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلے آپ نے اپنے حجرہ میں فرمایا "ہلموا اكتب لكم كتاباً" (سیرت ابن کثیر ۳/ ۴۵۱)۔ یعنی کا کاغذ لاؤ، میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دوں۔ مگر اس کے بعد آپ پر غشی طاری ہو گئی۔ اور آپ کوئی تحریر نہ لکھوا سکے۔ اس کو لے کر شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ رسول اللہ اپنے بعد خلافت کے لئے علی ابن ابی طالب کو نامزد کرنا چاہتے تھے۔ مگر عمر فاروق نے آپ کو ایسا کرنے نہیں دیا۔ ۱۔ یہ نہایت غیر علمی بات ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین تھے۔ کوئی بھی شخص یا گروہ ان کو اپنے مقاصد نبوت کی تکمیل سے روک نہیں سکتا تھا۔ اس قسم کے عقیدہ کے لئے قرآن میں کوئی بنیاد موجود نہیں۔ دوسری بات یہ کہ کا کاغذ لاؤ میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دوں، اس میں قیاس کے ذریعہ کسی چیز کو جوڑا نہیں جا سکتا۔ اور اگر اس معاملہ میں قیاس کرنا درست ہو تو سیکڑوں باتیں اپنے اپنے قیاس کے مطابق جوڑی جا سکتی ہیں۔ مثلاً بھائی اور قادیانی نعوذ باللہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ یہ لکھنا چاہتے تھے کہ میرے بعد ایران اور ہندوستان میں اگلے زمانہ کے پیغمبر آئیں گے۔ تم لوگ ان کی اطاعت کرنا، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا قیاس سراسر بے بنیاد ہے۔ اس کے ذریعہ کسی بھی چیز کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ ۲۔ اسی طرح کچھ لوگوں نے یہ نظریہ بنایا کہ دور زوال میں امت کی اصلاح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کو دوعیدیں نہ سنائی جائیں بلکہ بشارتیں سنائی جائیں۔ یہ مفروضہ قائم کر کے انہوں نے اسی کی بنیاد پر پوری تحریک چلادی۔ لیکن یہ ایک خود ساختہ نظریہ ہے جو رسول اور اصحاب رسول کے نمونہ سے ثابت نہیں ہوتا۔ صحیحین میں یہ روایت آئی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ نے فرمایا کہ بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ اس شخص کو عذاب نہ دے جو اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرے (حق العباد علی الله أن لا يعذب من لا يشرك به شيئاً )۔ حضرت معاذ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول، کیا میں اس کی بشارت لوگوں کو نہ پہنچادوں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، لوگوں کو تم بشارت نہ دوور نہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader