Urdu book · دین و شریعت

افتراق امت

Urdu book, p. 317

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگ اسی پر بھروسہ کر لیں گے (لا تبشرهم فيتكلوا)۔ اس سے معلوم ہوا کہ بشارتیں سنانے کی بنیاد پر کوئی عمومی تحریک چلانا سراسر رسول کے نمونہ کے خلاف ہے۔ جو عوامی تحریک بشارتوں کی بنیاد پر چلائی جائے وہ تحریک کا ایک انحرافی طریقہ ہے نہ کہ مسنون طریقہ۔ اسی طرح روایت میں آیا ہے کہ ایک بار مشہور صحابی عبد اللہ ابن عباس نے بعد کے زمانے کے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سنائی۔ اس کو سن کر انہوں نے کہا کہ مگر ابو بکر اور عمر کا قول تو اس سے مختلف ہے۔ یہ سن کر حضرت عبد اللہ ابن عباس نے کہا: "يوشك أن تنزل عليكم حجارة من السماء، أقول: قال رسول الله عليه وسلم وتقولون: قال ابو بکر و عمر" (قریب ہے کہ تمہارے اوپر آسمان سے پتھر برسیں۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور تم لوگ کہتے ہو کہ ابو بکر اور عمر نے کہا) (إبطال التنديد باختصار شرح التوحيد، الشيخ حمد بن علی بن محمد بن عتیق، صفحه ۱۱۳)۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ اور اصحاب رسول کا طریقہ بشارت سے زیادہ وعید سنانے پر مبنی تھا۔ کیونکہ اصل مسئلہ لوگوں کے اندر عمل کا جذبہ بیدار کرنا ہے۔ اور عمل کا حقیقی جذبہ ہمیشہ وعیدوں سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ بشارتوں سے۔ ۳۔ یہی معاملہ ان مسلم قائدین کا ہے جنہوں نے اپنے ملک کے حکمرانوں میں بگاڑ دیکھ کر ان کے خلاف پر شور تحریکیں چلائیں اور حکمرانوں کو سیاسی اقتدار سے بے دخل کرنے کا علم بلند کیا۔ اس قسم کی تحریکوں کی مثالیں خاص کر موجودہ زمانہ میں اکثر مسلم ملکوں میں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً مصر، شام، ایران، الجزائر، پاکستان، وغیرہ۔ یہ تمام تحریکیں بلاشبہ ایسی تحریکیں ہیں جن کے لئے صحابہ کے یہاں کوئی تصدیقی نمونہ موجود نہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، بنو امیہ کے حکمراں یزید ابن معاویہ کے زمانہ میں سیاسی بگاڑ پوری طرح آچکا تھا۔ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں اصحاب رسول موجود تھے۔ مگر کسی صحابی نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page