Urdu book · دین و شریعت

افتراق امت

Urdu book, p. 318

By Maulana Wahiduddin Khan

یزید کے مقابلے میں مخالفانہ سیاسی مہم نہیں چلائی۔ ہر ایک نے یہ کیا کہ وہ یزید کے اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے حالات کے اعتبار سے کسی نہ کسی دینی اور تعمیری کام میں لگا رہا۔ ایسی حالت میں مسلم حکمرانوں کو ظالم قرار دے کر جو مخالفانہ تحریکیں چلائی گئیں وہ سب کے سب انحرافی تحریکیں تھیں۔ ان کا صحابہ کے نمونہ سے کوئی تعلق نہیں۔ سیاسی نزاع سے اعراض کا یہ مسلک جو تمام صحابہ نے اختیار کیا اس کا سبب یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طور پر ان کو ایسا کرنے کا حکم دے دیا تھا (الترمذی، کتاب الفتن)۔ اور مسند احمد میں یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے کہا کہ میرے بعد تم لوگ (امراء میں) بگاڑ دیکھو گے اور تم ایسے امور دیکھو گے جن کو تم منکر سمجھو گے۔ صحابہ نے کہا کہ پھر ہم کو آپ کیا حکم دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا— تم لوگ ان (امراء) کو ان کا حق ادا کرو اور اپنا حق اللہ سے مانگو” قال لنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أنكم سترون بعدی أثرة و أموراً تنكرونها قال قلنا ما تأمرنا قال أدوا إليهم حقهم و سلوا الله حقكم “(مسند احمد (۳۸۴/۱)۔ انحرافی ماڈل کو پہچانا نہایت آسان ہے، بشر طیکہ آدمی اس معاملہ میں اس ضروری شرط کو پورا کرے جو قرآن میں بیان ہوئی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ”بے شک تم صرف اس شخص کو ڈرا سکتے ہو جو نصیحت کا اتباع کرے اور اللہ سے ڈرے۔ بن دیکھے (یس ۱۱) قرآن کی ان شرطوں کو دوسرے الفاظ میں اعتراف اور احتیاط کہا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت پانے کے لئے سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ آدمی کے اندر اعتراف کا مادہ ہو، اس کو اللہ کے سامنے حاضری کا کھٹکا لگا ہوا ہو، وہ اپنے اندر حق پسندی کا وہ مزاج رکھتا ہو جو کلی صداقت سے کم کسی چیز پر راضی ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ جن لوگوں کے اندر یہ صفت ہو وہ اس کا تحمل نہیں کرسکتے کہ حق کے ظاہر ہونے کے بعد وہ اس کو قبول نہ کریں۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے چند مثالیں لیجئے۔ موجودہ زمانے میں کچھ لوگ ہیں جو اسلام کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page