افتراق امت
Urdu book, p. 319
By Maulana Wahiduddin Khan
تفسیر سیاسی انقلاب کی اصطلاحوں میں کرتے ہیں۔ وہ اسلام کا مشن یہ بتاتے ہیں کہ ساری دنیا میں اسلام کا سیاسی نظام قائم کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائی جائے۔ یہ اسلام کی ایک انحرافی تشریح ہے۔ جس آدمی کے اندر سنجیدگی اور تقویٰ موجود ہو وہ نہایت آسانی سے اس کی غلطی کو سمجھ سکتاہے۔ مثلاً قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آسمانی کتاب کے نزول کا مقصد کیا ہے۔ فرمایا کہ ”لیقوم الناس بالقسط“ (الحدید ۲۵)۔ یعنی یہ کہ لوگ قسط پر قائم ہوں۔ حالانکہ اگر مذکورہ سیاسی نظریہ صحیح ہو تو آیت کے الفاظ اس قسم کے ہونے چاہئیں کہ لتنفذ القسط علی الناس (تاکہ لوگوں کے اوپر قسط کو نافذ کیا جائے)۔ اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ”وأقم وجهك للدين حنيفا“ (یونس ۱۰۵) یعنی یہ کہ اپنا چہرہ یکسو ہو کر دین کی طرف کرو۔ اگر مذکورہ سیاسی تعبیر صحیح ہو تو یہاں اسی قسم کے الفاظ ہونے چاہئیں ”نَفِذ شرائع الدين علی الأرض“ (دین کے احکام کو زمین پر نافذ کرو)۔ مگر قرآن میں اس قسم کی کوئی آیت کہیں موجود نہیں۔ اب آدمی اگر سنجیدہ ہو اور اللہ کے خوف نے اس کو محتاط بنا رکھا ہو تو وہ یہ معلوم کر کے فوراً ٹھٹھک جائے گا اور اپنے خود ساختہ نظریہ کی غلطی کو مان کر اس کی اصلاح کرلے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسنون ماڈل اور انحرافی ماڈل میں نہایت واضح فرق ہوتا ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہوں اور آخرت کی پکڑ کے احساس نے جن کو سنجیدہ بنا دیا ہو، وہ یقیناً دونوں کے فرق کو پہچان لیں گے۔ وہ انحرافی ماڈل کو چھوڑ کر مسنون ماڈل کو اختیار کر لیں گے۔ اس معرفت سے صرف وہ لوگ بے بہرہ ہو سکتے ہیں جن کے سینے اللہ کے ڈر سے خالی ہوں اور جن کو یہ اندیشہ نہ ہو کہ وہ غلط ماڈل اختیار کرنے کے بعد اللہ کی ناراضگی سے بچ نہیں سکتے اور نہ کسی تدبیر سے وہ اللہ کی پکڑ سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader