لعنت کیا ہے
Urdu book, p. 320
By Maulana Wahiduddin Khan
لعنت کیا ہے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داؤد و عیسی ابن مریم، ذلك بما عصوا و كانوا يعتدون، كانوا لا يتناهون عن منكر فعلونه، لبئس ما كانوا يفعلون (المائدہ ۷۸-۷۹) یعنی بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر لعنت کی گئی داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے۔ اس لئے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے آگے بڑھ گئے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے اس برائی سے جس کو وہ کرتے تھے۔ نہایت بُرا کام تھا جو وہ کر رہے تھے۔ اس آیت میں الذین کفروا سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ لفظی معنوں میں دین یہودیت سے انکار کر کے غیر یہود بن گئے تھے۔ اس لئے کہ اس آیت کی تشریح میں جو حدیثیں وارد ہوئی ہیں ان سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد علماء یہود ہیں نہ کہ کافرین یہود یا متدین یہود (الترمذی، کتاب التفسیر)۔ اور ظاہر ہے کہ یہ یہودی علماء دین یہودیت سے انکار کر کے کسی اور مذہب میں شامل نہیں ہو گئے تھے بلکہ وہ قوم یہود کے اکابر تھے، وہ دین یہودیت کے نمائندہ بنے ہوئے تھے۔ یہاں کفر سے مراد دین یہودیت کا انکار نہیں ہے بلکہ دین یہودیت کے ایک حکم (تناهی عن المنکر) کو عملاً ترک کرنا ہے، جیسا کہ مذکورہ آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اس آیت میں جس لعنت کا ذکر کیا گیا ہے اس سے کیا مراد ہے۔ قرآن یا زبور یا انجیل میں کہیں یہ لکھا ہوا نہیں ہے کہ حضرت داؤد اور حضرت مسیح نے اپنی زبان سے یہ کہا ہو کہ اے یہود، تم پر لعنت ہو، اے یہودیو، تم لوگ ملعون ہو۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ حضرت داؤد اور حضرت مسیح کی زبان سے یہودیوں پر لعنت کیا جانا کس مفہوم میں تھا۔ قرآن و حدیث، نیز زبور اور انجیل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لعنت دراصل اس معنی میں تھی کہ ان پیغمبروں نے اس زمانہ کے یہودیوں کی دینی اور اخلاقی حالت کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader