Urdu book · دین و شریعت

لعنت کیا ہے

Urdu book, p. 321

By Maulana Wahiduddin Khan

اکسپوز (expose) کیا۔ یہ لوگ، خاص طور پر ان کے علماء، ظاہر کے اعتبار سے خوب دین دار بنے ہوئے تھے۔ وہ نمائش کے مواقع پر زیادہ سے زیادہ اپنی دین داری کا مظاہرہ کرتے تھے مگر اندر سے وہ بالکل کھوکھلے تھے۔ ان میں بظاہر رسمی دین داری تو ضرور تھی مگر دین کی اصل اسپرٹ ان میں ختم ہو چکی تھی۔ ان کی اسی منافقانہ دین داری کو ان کے پیغمبروں نے کھول کر انہیں بے نقاب کر دیا۔ حضرت داؤد اور حضرت مسیح نے یہودیوں کی منافقانہ دین داری کو جس طرح کھولا وہ اب بھی بائیبل میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ ملاحظہ ہو عہد نامہ قدیم میں زبور اور عہد نامہ جدید میں متی کا باب۔ لعنت کے لفظی معنی ہیں: الإبعاد و الطرد من الخير (لسان العرب ۱۳/ ۳۸۷)۔ یعنی خیر سے دور کر دینا۔ یہ دراصل منافقت کی سزا ہے۔ جو لوگ زبان سے دین داری کے مدعی ہوں مگر ان کا حال یہ ہو کہ دین کے مظاہر کی تو وہ نمائش کریں اور دین کی داخلی روح (اسپرٹ) سے ان کا سینہ خالی ہو۔ اللہ ایسے لوگوں کو بے حد ناپسند کرتا ہے۔ وہ ان کو اپنی رحمت سے آخری حد تک دور کر دیتا ہے، الا یہ کہ وہ اپنی منافقانہ روش سے باز آئیں اور اللہ کے دین کو اس کی سچی اسپرٹ کے ساتھ اختیار کریں۔ مذکورہ آیت میں جس معاملہ کا ذکر کیا گیا ہے اس کے سلسلہ میں حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایتیں منقول ہوئی ہیں۔ ان روایتوں کا ایک خلاصہ مفسر ابن کثیر نے اپنی کتاب میں جمع کر دیا ہے (ملاحظہ ہو، تفسیر القرآن العظیم، الجزء الثانی، صفحہ ۸۲-۸۳)۔ اس سلسلہ میں قرآن و حدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود یا علماء یہود کی خاص برائی جس پر انہیں لعنت کی گئی وہ یہ تھی کہ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو منکر کام کرتے ہوئے دیکھتے تھے مگر وہ اس پر ان کی مذمت نہیں کرتے تھے، (کانوا لا يتناهون عن منکر فعلوره)۔ مثلاً وہ دیکھتے تھے کہ ایک یہودی دوسرے یہودی کی کاٹ کر رہا ہے۔ ایک یہودی گروہ کسی ظالمانہ روش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page