Urdu book · دین و شریعت

لعنت کیا ہے

Urdu book, p. 322

By Maulana Wahiduddin Khan

میں مبتلا ہے۔ یہودیوں کے کچھ لوگ ایسا کام کر رہے ہیں جو خدائی شریعت کے خلاف ہے مگر ان کے علماء اس طرح کی باتوں پر کھلے انداز میں ان کی مذمت نہیں کرتے تھے۔ وہ قومی برائیوں کے معاملہ میں غیر جانب دار بنے رہتے تھے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ یہود کی مختلف برائیوں میں سے اسی ایک برائی (نھی عن المنکر) ہی کو کیوں لعنت کا سبب قرار دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو برائی سے روکنا یا ان کی کھلی مذمت کرنا ایک ایسا فعل ہے جو فوراً آدمی کو اپنے لوگوں میں غیر مقبول بنا دیتا ہے۔ لوگ ایسے آدمی کے دشمن بن جاتے ہیں اور اگر اس برائی کا تعلق قومی خواہشات سے ہو اور پوری قوم کے جذبات اس سے وابستہ ہوں تو اس کے خلاف بولنے کی یہ انتہائی مہنگی قیمت دینی پڑتی ہے کہ آدمی خود اپنی قوم میں مبغوض بن کر رہ جاتا ہے۔ اور بلاشبہ اس دنیا میں اس سے زیادہ تکلیف کی بات اور کوئی نہیں کہ آدمی خود اپنی قوم کے اندر مبغوض بن کر رہ جائے۔ نہی عن المنکر کے کام کا یہی مخصوص پہلو ہے جس کی بنا پر اس کو دوسرے احکام کے مقابلہ میں خصوصی طور پر دینی جانچ کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ نہی عن المنکر کے کام میں مشغول ہونے کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ آدمی فوراً ہی قوم کے اندر اپنی مقبولیت کو کھو دیتا ہے۔ مقبولیت کو کھونا ہر آدمی کے لئے ایک ناقابل برداشت قیمت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی علماء بظاہر دوسرے تمام دینی احکام پر عمل کرتے تھے مگر انہوں نے اپنی قوم کو برائیوں سے روکنے یا ان کی مذمت کرنے کے کام کو چھوڑ دیا تھا۔ کوئی گروہ یا کوئی امت حقیقی معنوں میں دین پر قائم ہے یا نہیں، اس کی قطعی جانچ (crucial test) یہی ہے۔ وہ یہ کہ اس کو، خاص طور پر اس کے اکابر کو، نہی عن المنکر کے معیار پر جانچا جائے۔ کیوں کہ یہ واحد کام ہے جس کی یہ قیمت دینی پڑتی ہے کہ آدمی اپنی قوم میں اپنا مقام کھو دے، وہ خود اپنے لوگوں میں غیر مقبول ہو کر رہ جائے۔ یہ بلاشبہ اتنی بڑی جانچ ہے کہ اس میں صرف وہی شخص پورا اتر سکتا ہے جس کے سامنے صرف اللہ کی رضا ہو، عوام کے اندر مقبولیت یا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page