Urdu book · دین و شریعت

لعنت کیا ہے

Urdu book, p. 323

By Maulana Wahiduddin Khan

غیر مقبولیت سے وہ مکمل طور پر بے نیاز ہو گیا ہو۔ یہی کسی آدمی کے بر سر حق ہونے کا سب سے زیادہ یقینی معیار ہے، بشر طیکہ وہ اخلاص اور خیر خواہی کے جذبہ کے تحت کیا جائے۔ اخلاص اور نفاق کے درمیان جو چیز فرق کرتی ہے وہ یہی ہے۔ اس معاملہ کی وضاحت کے لئے میں ایک مثال دوں گا۔ غالباً 1948ء کا واقعہ ہے۔ مجھے لکھنؤ کی ایک درگاہ میں جانے کا اتفاق ہوا، وہاں ایک قدیم بزرگ کی قبر تھی۔ میں نے دیکھا کہ کئی لوگ اپنا سر زمین پر رکھ کر قبر کو سجدہ کر رہے ہیں۔ یہ منظر میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا۔ چنانچہ مجھے سخت جھٹکا لگا۔ میں قریب کے ایک کشادہ کمرہ میں گیا۔ یہاں گدے کے اوپر مسند لگائے ہوئے کئی موٹے موٹے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ غالباً اس درگاہ کے مجاور تھے۔ ان کے سامنے کھڑے ہو کر میں نے نرمی کے ساتھ کہا کہ یہاں لوگ قبر کو سجدہ کر رہے ہیں لیکن غیر اللہ کو سجدہ کرنا تو اسلام میں حرام ہے۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ اس کونے کی طرف دیکھو۔ میں نے دیکھا تو وہاں کئی لاٹھیاں کھڑی کر کے رکھی ہوئی تھیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ تمہارا جواب اسی سے دیا جائے گا۔ اس کے بعد ایک بھولے شخص نے مجھے پیچھے پیچھے کی طرف سے کھینچاوہ مجھے کمرہ سے باہر لے گیا اور کہا کہ میاں صاحب زادے، جاؤ، اپنا کام کرو۔ لکھنؤ کی اسی درگاہ کے ایک جلسہ میں ایک اور صاحب گئے۔ انہوں نے یہاں کے مدفون بزرگ کی تعریف میں شاندار تقریر کی۔ چنانچہ انہیں سجے ہوئے اسٹیج پر بٹھایا گیا اور پھولوں کے ہار سے ان کا استقبال کیا گیا۔ اس کے برعکس راقم الحروف نے ’’نھی عن المنکر‘‘ کے جذبہ کے تحت نصیحت کرنے کی کوشش کی تو اس کو لاٹھیوں سے استقبال کرنے کی دھمکی دی گئی۔ اس فرق سے معلوم ہوتا ہے کہ نہی عن المنکر کی اتنی زیادہ اہمیت کیوں ہے۔ مثلاً اگر آپ لوگوں کے پاس جائیں اور کلمہ کا تلفظ درست کرائیں یا ان کو نماز اور روزہ کا ثواب بتائیں یا انہیں حج کے فضائل سنا کر ان کو حج پر جانے کے لئے کہیں تو اس قسم کی باتوں پر آپ کے ساتھ کوئی تلخ تجربہ پیش نہیں آئے گا۔ ہر جگہ آپ کو پسندیدہ نظر سے دیکھا جائے گا۔ آپ بہت جلد اپنی قوم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page