لعنت کیا ہے
Urdu book, p. 324
By Maulana Wahiduddin Khan
کے اندر عزت اور مقبولیت کا درجہ حاصل کر لیں گے۔ اسی طرح اگر آپ اپنی تقریر و تحریر میں ایسی باتیں کہیں جس میں لوگوں کو قومی فخر کی غذا ملتی ہو۔ اگر آپ لوگوں کے مفروضہ دشمنوں کو للکارنے والی زبان بولیں۔ اگر آپ ایسا نظریہ پیش کریں جس میں لوگوں کو اپنے سیاسی خواب کی تعبیر دکھائی دیتی ہو۔ اگر آپ لوگوں کے سامنے ایسے خوش نما الفاظ بولیں جس میں بظاہر کچھ کہے بغیر ان کو بڑا بڑا کریڈٹ مل رہا ہو۔ اگر آپ دوسری قوموں سے نزاعات کے معاملے میں ساری ذمہ داری غیروں پر ڈال کر اپنی قوم کو معصوم ظاہر کر رہے ہوں۔ اگر آپ ایسے نعرے بلند کریں جن میں کچھ الفاظ بول کر ہی ساری ذمہ داری پوری ہو رہی ہو، وغیرہ۔ اگر آپ اس قسم کا انداز اختیار کریں تو بہت جلد آپ اپنی قوم کے اندر مقبول اور محبوب ہو جائیں گے۔ آپ کو قوم کی طرف سے ہر قسم کا استقبال اور تعاون ملنے لگے گا۔ اس کے بجائے اگر آپ بر عکس انداز اختیار کریں یعنی آپ بشارتوں کے بجائے لوگوں کو وعیدیں سنائیں۔ آپ تعریف کے بجائے لوگوں کی تنقید کریں۔ آپ معاملات میں غیروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے خود اپنی قوم کی غلطیوں کی نشان دہی کریں۔ آپ لوگوں کو فخر کی غذا دینے کے بجائے ان کو خود احتسابی کی طرف پکاریں۔ انہیں خوش نما سیاسی خواب کے بجائے زمینی حقائق کی طرف متوجہ کریں تو آپ اپنی قوم کے اندر ایک مبغوض اور مردود شخص بن جائیں گے۔ یہ حقیقت اتنی عمومی ہے کہ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کا بھی اس میں کوئی استثناء نہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ نبوت سے پہلے مکہ میں آپ اپنے اعلیٰ کردار کی بنا پر لوگوں کے درمیان ایک محترم شخصیت بنے ہوئے تھے۔ لوگوں نے آپ کو لامین کا خطاب دے رکھا تھا۔ نبوت کے بعد جب آپ نے مثبت انداز میں صرف توحید کی بات کہی تو اس کے بعد بھی لوگوں کی طرف سے آپ کی کوئی مخالفت نہیں کی گئی۔ کچھ عرصہ بعد جب آپ نے ان بتوں کا نام لے کر انہیں غلط بتایا، جن کو لوگ مقدس سمجھ کر پوجتے تھے تو لوگ آپ کے سخت مخالف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader