لعنت کیا ہے
Urdu book, p. 325
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوگئے۔ قریش کے بزرگوں کے اوپر آپ کی تنقید کو گالی اور عیب جوئی بتا کر آپ کے دشمن بن گئے۔ لوگوں کی یہ دشمنی اتنی بڑھی کہ آپ کو اپنا وطن چھوڑ کر باہر جانا پڑا (سیرة النبی لابن ہشام، الجزء الاول، صفحه ۲۷۵-۲۷۶) اسی طرح کا ایک واقعہ عروہ بن مسعود الثقفی کا ہے۔ دور رسول اللہ ﷺ کے سفر طائف کے بعد مکہ آئے اور آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اپنی قوم (ثقیف) میں واپس جاؤں اور ان کو دین توحید کی دعوت دوں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ قتل کر دیں گے۔ عروہ بن مسعود ثقفی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول، میں ان کے نزدیک ان کی دوشیزہ سے بھی زیادہ محبوب ہوں۔ وہ اپنی اعلیٰ انسانی خصوصیات کی بنا پر ان کے درمیان نہایت با عزت حیثیت رکھتے تھے۔ چنانچہ عروہ بن مسعود ثقفی اپنے قبیلہ کو توحید کی دعوت دینے کے لئے طائف واپس آئے۔ قبیلہ کے اندر اپنے با عزت مقام کی بنا پر ان کو امید تھی کہ وہ لوگ ان کی مخالفت نہیں کریں گے۔ واپس آکر وہ اپنے گھر کے بالا خانہ پر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو جمع کر کے کہا کہ تم لوگ ایک اللہ کی عبادت کرو اور بتوں کی عبادت چھوڑ دو۔ اس کے بعد جو واقعہ ہوا وہ یہ تھا کہ ان کے قبیلہ کے لوگوں نے ان کو تیر مارنا شروع کیا یہاں تک کہ وہ شدید زخمی ہو کر شہید ہوگئے (حياة الصحابه، الجزء الاول، صفحه ۱۸۳-۸۴)۔ عروہ بن مسعود ثقفی بتوں یا قومی بزرگوں کے خلاف بولنے سے پہلے اپنی قوم کے درمیان محبوب ترین شخص تھے مگر جب وہ قوم کے بتوں یا قوم کے مقدس بزرگوں کے خلاف بولے تو وہ اپنی قوم میں مبغوض ترین شخص بن گئے۔ اس طرح کے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قوم کو خوش کرنے والی باتیں بولنا، اور قوم کی تنقید و مذمت کرنا، دونوں میں کتنا زیادہ فرق ہے۔ ایک وضاحت یہاں ایک پہلو کی وضاحت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader