لعنت کیا ہے
Urdu book, p. 326
By Maulana Wahiduddin Khan
خالص سماجی ذمہ داری ہے، اس کا سیاست سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ کچھ لوگوں نے اپنے خود ساختہ سیاسی ذوق کی بنا پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو سیاست اور حکومت کا معاملہ قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان حکمرانوں سے اقتدار کی کنجیاں چھین کر حکومت کے منصب پر قبضہ حاصل کریں اور حاکمانہ اختیار کے تحت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام انجام دیں۔ ان حضرات کی اس سیاسی تفسیر کی بنیاد قرآن کی یہ آیت ہے: الذین ان مکناهم فی الأرض أقاموا الصلوة وأتوا الزکوة وأمروا بالمعروف و نهوا عن المنکر ولله عاقبة الامور (الحج (۴۱)۔ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کو اگر ہم زمین میں غلبہ دیں تو وہ نماز کا اہتمام کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے اور سب کاموں کا انجام خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ اس آیت میں تمکین فی الارض کے بعد جس طرح نہی عن المنکر کے کام کو انجام دینے کا ذکر آیا ہے۔ اس طرح اس آیت میں اقامت صلوٰۃ کا کام بھی تمکین فی الارض پر موقوف ہونا چاہئے۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، اقامت صلوٰۃ کا کام تمکین فی الارض کے پہلے بھی انجام دیا جائے گا اور تمکین فی الارض کے بعد بھی۔ نماز کی ادائیگی ہر شخص کے لئے فرض عین ہے، وہ کسی حال میں کسی شخص سے ساقط نہیں ہوتی۔ یہی معاملہ نہی عن المنکر کا بھی ہے۔ نہی عن المنکر ہر مسلم معاشرہ میں اور ہر حال میں ضروری ہے۔ اس کام کا سیاسی اقتدار سے کوئی تعلق نہیں۔ نہی عن المنکر اصلا علماء کی ذمہ داری ہے۔ علماء کو ہر حال میں اپنی یہ دینی ذمہ داری ادا کرنا ہے۔ اگر وہ اس معاملہ میں خاموشی یا غیر جانب داری کا طریقہ اختیار کریں تو وہ اللہ کی نظر میں مجرم قرار پائیں گے۔ نہی عن المنکر کے فریضہ کو چھوڑنے کے بعد کوئی بھی دوسرا عمل ان کو اللہ کی نظر میں بری الذمہ نہیں ٹھہر سکتا۔ اس میں اگر رخصت یا استثناء ہے تو صرف اس حالت کا جب کہ نہی عن المنکر کا کام ان کے لئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader