Urdu book · دین و شریعت

اسلامی خلافت

Urdu book, p. 328

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی خلافت تمہید اسلام میں کچھ چیزیں مقصد ہیں اور کچھ چیزوں کی حیثیت ذمہ داری کی ہے۔ مثلاً اللہ کا شکر، ایک مقصدی نوعیت کی چیز ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو ہر آدمی سے مقصد کے درجہ میں مطلوب ہے۔ ہر آدمی کو لازمی طور پر شکر گزار بننا ہے۔ اس کے برعکس مال کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ مالی احکام اس وقت شروع ہوتے ہیں جب کہ آدمی مال دار ہو چکا ہو۔ جو شخص مال دار نہ ہو اس کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ ضرور اپنے آپ کو مال دار بنائے تاکہ مال کے بارے میں جو اسلامی احکام ہیں ان کی تعمیل کرے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کے لیے قرآن میں ایک دوسرے سے مختلف الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ شکر کے لیے قرآن میں یہ لفظ ہے کہ بل اللہ فاعبد و کن من الشاکرین (الزمر ٦٦) جب کہ مال کے لیے یہ نہیں فرمایا کہ مال دار بنو۔ بلکہ یہاں اس قسم کے الفاظ ہیں: ومما رزقناہم ينفقون (البقرہ ۳) یعنی پہلے معاملہ میں فرمایا کہ شکر گزار بنو۔ اور دوسرے معاملہ میں فرمایا کہ ہم نے ان کو جو مال دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔ گویا شکر گزار تو آدمی کو ہر حال میں بننا ہے، جب کہ مال کے احکام کی تعمیل اس وقت کرنی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو مال دے دیا گیا ہو۔ سیاست و حکومت کی حیثیت بھی اسلام میں مقصد کی نہیں بلکہ ذمہ داری کی ہے۔ یعنی سیاست و حکومت وہ چیز نہیں کہ ہر آدمی اس کو اپنا نشانہ بنا کر اس کے لیے جد و جہد کرے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے۔ اللہ تعالیٰ خود اپنی مصلحتوں کے تحت کبھی کسی کو زمین میں با اقتدار بنا دیتا ہے اور کبھی کسی کو۔ اور جب کسی شخص یا قوم کو یہ عطیہ ملے تو اس وقت اس پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اقتدار کو ان احکام کے مطابق استعمال کرے جو خدا نے اس کے لیے مقرر کر دئے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page