Urdu book · دین و شریعت

اسلامی خلافت

Urdu book, p. 329

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی وجہ ہے کہ قرآن میں سیاست و حکومت کے لیے جو الفاظ آئے ہیں وہ اس سے مختلف ہیں جو مقصدی نوعیت کے احکام کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ مثلاً عبادت کے لیے قرآن میں یہ الفاظ ہیں کہ واعبد ربك حتى ياتيك اليقين (اپنے رب کی عبادت کرو موت کے آنے تک ) دوسری طرف سیاست و حکومت کے لیے اس قسم کے الفاظ آئے ہیں: الذين ان مكناهم في الارض اقاموا الصلوة واتوا الزكوة و امروا بالمعروف و نهوا عن المنكر (وہ لوگ کہ اگر ہم ان کو زمین میں حکومت دیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے ) الحج اہی۔ حکومت کا ذکر ”اگر“ کے لفظ کے ساتھ ہے اور عبادت کا ذکر ”اگر“ کے بغیر ہے۔ دونوں کی نوعیت میں یہ فرق نہ ہوتا تو عبادت کے لیے بھی اسی قسم کے الفاظ آتے کہ ــــ اگر ہم انہیں مسجد دے دیتے ہیں تو وہ ہماری عبادت کرتے ہیں۔ خلافت ایک خدائی عطیہ قرآن کے مطابق، خلافت خدا کا ایک عطیہ ہے۔ قرآن میں واضح طور پر ارشاد ہوا ہے کہ کہو کہ اے اللہ، ملک کے مالک، تو جس کو چاہے ملک دے اور جس سے چاہے ملک لے لے۔ اور تو جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلیل کردے۔ بھلائی تیرے اختیار میں ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے (آل عمران (۲۶)۔ خلافت و حکومت جس کو بھی ملتی ہے خدا کی طرف سے ملتی ہے۔ خلیفہ بننے کا مطلب زمین میں تمکین واقتدار کا ملنا ہے۔ تمکین واقتدار سراسر خدا کا عطیہ ہے اور وہ عملاً خدا ہی کا عطیہ ہو سکتا ہے۔ تمکین واقتدار کسی کو خالی جزیرہ میں نہیں ملتا۔ یہ مختلف قوموں اور گروہوں کے بالمقابل ایک چیز کو پانے کا نام ہے۔ انسان کی قوت اس سے بہت کم ہے کہ وہ دوسروں کو بے دخل کر کے خود اقتدار پر قبضہ کر سکے۔ تمکین واقتدار کے حصول کے لیے اتنے زیادہ اسباب کی بیک وقت یکجائی درکار ہے کہ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page