اسلامی خلافت
Urdu book, p. 330
By Maulana Wahiduddin Khan
تنہا کسی شخص یا قوم کے بس میں نہیں۔ یہ دراصل خدا ہے جو ایسے اسباب پیدا کرتا ہے جو ایک قوم کو تمکین و اقتدار کے مقام سے ہٹائیں اور اس کی جگہ دوسری قوم کو تمکین و اقتدار کا مقام عطا کریں۔ کسی کو خلافت و حکومت دینے کا یہ فیصلہ خدا کی مختلف مصلحتوں کے تحت ہوتا ہے۔ قرآن میں ان کی بابت اشارات ملتے ہیں۔ مثلاً اس سلسلہ میں ایک مصلحت امتحان ہے۔ یعنی ایک قوم کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسری قوم کو اختیار دینا تا کہ خدا دیکھے کہ وہ کس طرح عمل کرتی ہے (ثم جعلناكم خلائف فی الارض من بعدهم لننظر كيف تعملون، يونس (۱۴) دوسری مصلحت یہ ہے کہ کسی قوم کی صلاحیت کی بنا پر اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ احسان کا فیصلہ کرے اور اس بنا پر اس کو زمین کا اقتدار دے دے (ونريد ان نمن علی الذين استضعفوا فی الارض و ن جعلهم ائمة و نجعلهم الوارثین، القصص ۵) اسی طرح ایک مصلحت یہ ہے کہ زمین کو فساد سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ ایسا کرے کہ وہ ایک قوم کے ذریعہ دوسری قوم کو میدانِ عمل سے ہٹا دے (ولو لا دفع الله الناس بعضهم ببعض لفسدت الارض، البقرة ۲۵۱) وغیرہ۔ خلافت کے فرائض خلیفہ کے فرائض کیا ہیں، اس کے بارے میں قرآن کی حسب ذیل آیت واضح رہنمائی کرتی ہے: یا داؤد انا جعلناك خليفة فى الارض فاحكم بين الناس بالحق ولا تتبع الهوى فيضلك عن سبيل الله. إن الذين يضلون عن سبيل الله لهم عذاب شديد بما نسوا يوم الحساب (ص ۲۶)۔ اے داؤد، ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔ پس تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تم کو اللہ کے راستہ سے بھٹکا دے گی۔ بے شک جو لوگ اللہ کے راستہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ روزِ حساب کو بھولے رہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader