اسلامی خلافت
Urdu book, p. 331
By Maulana Wahiduddin Khan
اس آیت میں تین باتیں کہی گئی ہیں ـــــ انصاف کے مطابق فیصلہ کرنا، خواہش نفس کی پیروی نہ کرنا، اور حساب کے دن سے ڈرتے رہنا۔ مختصر لفظوں میں یہی وہ معیار ہے جس پر جانچ کر معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کون شخص صحیح اسلامی خلیفہ ہے اور کون شخص صحیح اسلامی خلیفہ نہیں۔ صحیح اسلامی خلیفہ وہ ہے جس کے دل میں یہ ڈر سمایا ہوا ہو کہ اس کو اپنے ہر قول اور فعل کا حساب خدا کو دینا ہے۔ ایسا شخص اپنی رائے اور خواہش پر نہیں چلے گا بلکہ ہر معاملہ میں وہ خدا کی مرضی کو جاننا چاہے گا اور جیسے ہی اس کو خدا کی ثابت شدہ مرضی معلوم ہوگی وہ فوراً اس کو پکڑ لے گا۔ کیوں کہ اس کا ذہن یہ کہے گا کہ اسی کو اختیار کر کے میں آخرت میں اللہ کی پکڑ سے بچ سکتا ہوں۔ یہی چیز ہے جو کسی حکمران کو خلیفہ حق بناتی ہے۔ اس کا ہر فیصلہ انصاف کا فیصلہ ہوتا ہے اور اس کا ہر اقدام وہ صحیح اقدام ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کا ایک واقعہ خلافت کی نوعیت کو بخوبی طور پر واضح کرتا ہے: عن عمر بن الخطاب انه سأل طلحة والزبير وكعباً وسلمان ماالخليفة من الملك فقال طلحة و الزبير ماندری فقال سلمان: الخليفة الذى يعدل فى الرعية ويقسم بينهم بالسوية ويشفق عليهم شفقة الرجل على اهله. ويقضى بكتاب الله. فقال كعب ما كنت احسب ان فى المجلس احداً يعرف الخليفة من الملك غيري۔ (التفسیر المظهری، المجلد الثامن، صفحه ۱۳۷)۔ حضرت عمر فاروق نے ایک بار طلحہ اور زبیر اور کعب اور سلمان رضی اللہ عنہم سے سوال کیا کہ بادشاہ کے مقابلہ میں خلیفہ کون ہے۔ طلحہ اور زبیر نے کہا کہ ہم کو نہیں معلوم۔ حضرت سلمان نے کہا کہ خلیفہ وہ ہے جو رعایا کے اندر انصاف کرے اور جو ان کے درمیان برابری کے ساتھ تقسیم کرے۔ اور جو ان پر اس طرح مہربان ہو جس طرح آدمی اپنے گھر والوں پر مہربان ہوتا ہے۔ اور جو خدا کی کتاب سے فیصلہ کرے۔ حضرت کعب نے کہا کہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader