Urdu book · دین و شریعت

اسلامی خلافت

Urdu book, p. 332

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں سمجھتا تھا کہ اس مجلس میں میرے سوا کوئی اور بھی ہے جو بادشاہ کے مقابلہ میں خلیفہ کے فرق کو جانتا ہے۔ صحابی کی یہ تشریح نہایت واضح طور پر بتاتی ہے کہ خدا کے مطلوب خلیفہ کی خصوصیات کیا ہیں، اور وہ کیا چیز ہے جس سے حقیقی معنوں میں ایک اسلامی خلیفہ کی پہچان ہوتی ہے۔ قتالِ فتنہ قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں دیا گیا ہے: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله (الانفال ۳۹) یعنی ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے، اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے۔ کچھ لوگوں نے اس آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ غیر مسلم طاقتوں سے لڑ کر انہیں زیر کرو اور ساری دنیا میں اسلام کی حکومت قائم کرو۔ مگر یہ ایک خود ساخته تفسیر ہے جس کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔ اس قسم کا حکم نہ قرآن کی اس آیت سے نکلتا ہے اور نہ کسی دوسری آیت یا حدیث سے۔ مذکورہ آیت معمولی فرق کے ساتھ قرآن میں دو جگہ آئی ہے (البقرہ ۱۹۳، الانفال (۳۹)۔ اس آیت میں قتال سے مراد ایک محدود اور وقتی نوعیت کا قتال ہے، وہ کوئی ابدی یا لا محدود قتال نہیں۔ فتنہ کے اصل معنی ابتلاء یا آزمائش کے ہیں۔ عربی میں کہا جاتا ہے : فتنت الفضة والذهب اذا اذبتهما بالنار لتميز الردي من الجيد (لسان العرب، جلد ۱۳، صفحه ۳۱۷) یعنی میں نے سونے اور چاندی کو تپایا۔ یہ کلمہ اس وقت کہا جاتا ہے جب کہ تم سونے اور چاندی کو آگ پر رکھ کر پگھلاؤ تاکہ اس کا کھوٹا اور کھر الگ ہو جائے۔ اسی سے فتنہ کے لفظ میں ستانے (persecution) کا مفہوم پیدا ہوا۔ چنانچہ دین کی بنیاد پر ایذاء رسانی (religious persecution) کے لیے فتنہ کا لفظ استعمال ہونے لگا۔ اسی سے فتنہ کے لفظ میں روکنے کا مفہوم پیدا ہوا۔ مثلاً کہا جاتا ہے: فتن فلانا عن رأيه (فلان شخص کو اس کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page