Urdu book · دین و شریعت

اسلامی خلافت

Urdu book, p. 333

By Maulana Wahiduddin Khan

رائے سے روکا) یا فتن فلانا عن دینہ (فلاں شخص کو اس کے دین سے روکا)۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی جبر ہے۔ یہ مذہبی جبر قدیم زمانہ میں ہزاروں سال سے بادشاہی نظام کے تحت ہر جگہ موجود تھا۔ نزول قرآن کے وقت تک جبر کی یہی صورت حال قائم تھی۔ اس زمانہ میں یہ حال تھا کہ جب بھی کوئی شخص ارباب اقتدار کے مذہب کے سوا کوئی اور مذہب اختیار کرتا تو اس کو اقتدار وقت کا مخالف سمجھ لیا جاتا اور اس کو سختی کے ساتھ اس انحراف سے روکنے کی کوشش کی جاتی۔ شاہی نظام کے تحت قائم شدہ یہ مذہبی جبر اللہ کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف تھا۔ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ دنیا میں ہر انسان کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہو تا کہ ہر ایک کی جانچ ہو سکے کہ اس نے دنیا میں دین حق کو اختیار کیا یا دین باطل کو۔ یہی وہ غیر مطلوب صورت حال تھی جس کو توڑنے کا حکم مذکورہ آیت کے تحت دیا گیا۔ چنانچہ رسول اور اصحاب رسول نے اولاد دعوت کے ذریعہ اور اتمام حجت کے بعد قتال کے ذریعہ مذہبی جبر کے اس نظام کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ یہ عمل رسول اللہ کے زمانہ میں شروع ہوا اور صحابہ کے زمانہ میں وہ اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کا اظہار حضرت عبداللہ بن عمر نے ایک گفتگو کے دوران ان الفاظ میں فرمایا : قد فعلنا ( صحیح البخاری، کتاب التفسیر، باب و قاتلوا حتی لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله) یعنی ہم نے اس کو تکمیل تک پہنچادیا۔ مذہبی جبر کے اس نظام کا خاتمہ عرب میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں انجام پایا۔ خلافت راشدہ کے زمانہ میں رومی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کو توڑ کر اس مطلوب الہی کی تکمیل کی گئی۔ اس کے بعد انسانی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا جب کہ مذہبی جبر کا نظام عالمی طور پر ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ اہل ایمان کو اپنے دین کے لیے اصلاح جس آزادی کی ضرورت ہے وہ مذہبی آزادی (religious freedom) ہے نہ کہ وہ چیز جس کو سیاسی آزادی (political freedom) کہا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page