اسلامی خلافت
Urdu book, p. 334
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتا ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں مذہب کی یہ آزادی مکمل طور پر حاصل ہو چکی تھی۔ مگر ان دونوں صدیوں میں مسلم رہنما ساری دنیا میں سیاسی آزادی کے میدان میں سرگرم رہے اور غلط طور پر انہوں نے اس کو جہاد کا نام دے دیا۔ اس دوسالہ جدوجہد میں ایک کروڑ سے زیادہ مسلمان مارے گئے اور بے شمار قسم کے دوسرے نقصانات پیش آئے۔ مگر ان ساری قربانیوں کا کچھ بھی فائدہ ملت کو نہیں ملا۔ موجودہ زمانہ میں کچھ مسلمان اگر بظاہر کامیاب نظر آتے ہیں تو ان کی یہ کامیابی بدنام سامراجی نظام کی بنا پر ہے نہ کہ ان کے اپنے خود ساختہ سیاسی جہاد کے نتیجہ میں۔ جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مطلوب مذہبی آزادی دے دی تو اب ان کا فرض تھا کہ وہ اس آزادی کو استعمال کر کے اپنی دینی ذمہ داریوں کو ادا کریں۔ مگر وہ مذہبی آزادی کے جدید مواقع کو نظر انداز کر کے اپنے مزعومہ سیاسی نشانہ کے حصول میں مصروف ہو گئے۔ یہ بلاشبہ ناشکری کا ایک کیس تھا۔ وہ ملی ہوئی نعمت پر شکر نہ کر سکے بلکہ خود ساختہ تصور کے تحت اپنی سیاسی محرومی کے لئے جان و مال کی قربانی دیتے رہے۔ ذلت و ناکامی کی موجودہ حالت جو ان پر مسلط ہے وہ اسی ناشکری کا نتیجہ ہے۔ خلاصہ یہ کہ مذکورہ قرآنی آیت میں ویکون الدین کلہ للہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دین کے سارے احکام زمین پر نافذ ہو جائیں۔ اگر یہ مراد ہوتی تو آیت کے الفاظ بالکل دوسرے ہوتے۔ آیت کا یہ جزء دراصل حتی لاتكون فتنة ہی کی ایجابی صورت ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ ــــ ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنه (دینی جبر) نہ رہے اور دینی آزادی کی حالت مکمل طور پر قائم ہو جائے۔ ويكون الدين كله لله (الأنفال (۳۹) کا لفظی ترجمہ یہ ہے ــــــ اور ہو جائے دین سب اللہ کے لئے۔ آیت کے اس حصہ کو قتال فتنے والے حصہ سے جوڑ کر دیکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جبری نظام ختم ہو جائے جس میں انسان کسی غیر خدائی دین کو اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس کے بجائے وہ آزادانہ صورت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader