Urdu book · دین و شریعت

دین و شریعت

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

کے عنوان پر ایک بین اقوامی اجتماع ہو رہا ہے۔ تنظیم کے ذمہ داروں کی طرف سے مجھے یہ دعوت دی گئی تھی کہ میں اس کے افتتاحی اجلاس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کروں اور ہندوستان میں مدارس دینیہ کی تحریک کے موضوع پر وہاں خطاب کروں۔ اس کے بعد دہلی کے کئی فضلاء مدارس مجھ سے ملے۔ مثلا مولانا عمید الزماں کیرانوی، مولانامحمد مزمل الحق الحسینی، مولانا بدر الزماں قاسمی، مولانا وارث مظہری قاسمی، وغیرہ۔ ان صاحبان نے اس کام کی طرف خصوصی توجہ دلائی۔ ان کی تحریک پر میں نے آخری فیصلہ کر لیا اور اس موضوع پر مطالعہ و تحریر کا کام شروع کر دیا۔ مذکورہ سیمنار میں پیش کرنے کے لئے جو تقریر میں نے تیار کی تھی وہ ابتداء صرف ۱۰ صفحات پر مشتمل تھی۔ اس کے بعد موضوع کی مزید تحقیق کے دوران اس میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ ۸۰ صفحات کا یہ مقالہ تیار ہو گیا۔ تاریخ تعلیم موجودہ زمانہ میں تعلیم (education) کی تاریخ پر کافی تحقیق کی گئی ہے اور اس موضوع پر کثرت سے کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم کی تاریخ میں اسلام کا ایک بہت بڑا حصہ (contribution) ہے۔ اسلام نے معلوم تاریخ میں پہلی بار علم اور تعلیم کو محدود دائرہ سے نکال کر وسیع دائرہ تک پہنچایا۔ ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اسلام کا ظہور ہوا۔ اسلام سے پہلے علم صرف خواص کے دائرہ کی چیز بنا ہوا تھا۔ اسلام کے تحت آنے والے انقلاب کے بعد تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ علم کو خواص کے دائرہ سے نکال کر عوام کے دائرہ میں لایا گیا۔ توسیع تعلیم کی یہی انقلابی تحریک ہے جس کو تعلیم کی تاریخ میں ’’مدرسہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۳) میں تاریخ تعلیم (History of Education) پر ۹۲ صفحہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page