تاریخ تعلیم
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
کا ایک مفصل مقالہ شامل ہے۔ اس کو متعدد ماہرین تعلیم نے تیار کیا ہے۔ اس مقالہ میں تعلیم کی تاریخ کو چند ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، پہلا دور وہ ہے جس کو ابتدائی کلچر (primitive culture) کہا گیا ہے۔ اس ابتدائی دور میں تعلیم کا مقصد بنیادی طور پر یہ تھا کہ قبائلی روایات اور قبائلی اخلاقیات سے نئی نسل کو باخبر کیا جائے اور اس کے لئے اس کو تیار کیا جائے۔ اس زمانہ میں لکھنے پڑھنے کا رواج بے حد کم تھا۔ چنانچہ یہ قبائلی تعلیم بھی زیادہ تر زبانی طور پر دی جاتی تھی اور ان کو محفوظ رکھنے کے لئے نوجوانوں کو یاد کرایا جاتا تھا۔ مزید یہ کہ اس تعلیم کا تعلق پورے قبیلہ سے نہ تھا بلکہ صرف اعلیٰ طبقہ سے تھا۔ اس اعلیٰ طبقہ میں بنیادی طور پر صرف دو قسم کے لوگ شامل ہوتے تھے۔ ایک، قبیلہ کے سردار اور امراء اور اعلیٰ طبقہ (upper class) کے نوجوان اور دوسرے، مذہبی پیشواؤں کا طبقہ (priestly class) جو لوگوں کو مذہبی رسوم و آداب کی ادائیگی میں مدد دیتا تھا۔ عام افراد اس تعلیمی نظام سے خارج سمجھے جاتے تھے۔ (6/317-18 EB) اس کے مطابق، دوسرا دور وہ ہے جس کو کلاسیکل کلچر کا نام دیا گیا ہے، یعنی قدیم تاریخی دور۔ اس زمانہ میں لکھنے پڑھنے کا رواج کافی بڑھ چکا تھا۔ مگر جہاں تک تعلیم کا تعلق ہے اب بھی تعلیم کا انداز (pattern) بنیادی طور پر وہی باقی رہا جو ابتدائی دور میں تھا۔ اب غیر رسمی تعلیم کے علاوہ رسمی تعلیم کا رواج بھی شروع ہو گیا۔ مگر یہ تعلیم بنیادی طور پر اعلیٰ طبقہ اور اونچی ذات (higher castes) تک محدود رہی۔ اونچی ذات یا اونچے طبقہ میں دو قسم کے لوگ شریک سمجھے جاتے تھے۔ ایک، سردار اور امراء جو قبیلوں یا قوموں کے سیاسی لیڈر کی حیثیت رکھتے تھے، جو نظام سلطنت کے ذمہ دار تھے۔ دوسرا طبقہ وہ تھا جو مذہبی مراسم کی ادائیگی میں پیشوا (priests) کا کام کرتا تھا۔ وہ عبادت گاہوں کا نظام چلاتا تھا اور دوسرے خاندانی یا سماجی رسوم مثلاً نکاح یا دوسری تقریبات کو مذہبی اصولوں کے مطابق ادا کرتا تھا۔ ان اعلیٰ مذہبی اور سیاسی طبقوں کے علاوہ قوم یا قبیلہ کے دوسرے افراد کے لئے تعلیم کو ضروری نہ سمجھا جاتا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader