تاریخ تعلیم
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
بعض قوموں میں عام لوگوں کی تعلیم کا رواج بھی ملتا ہے مگر یہ تعلیم حقیقت حصول علم کے معنیٰ میں نہ تھی۔ وہ زیادہ تر سماج کی عملی ضرورت کے معنیٰ میں تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ سماج کی روایات کو جانیں تا کہ وہ قائم شدہ سماج کے وفادار بن سکیں اور سماج انتشار سے بچارہے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ عوام یہ جانیں کہ اعلیٰ طبقہ کی ماتحتی میں انھیں کس طرح زندگی گزارنا چاہئے۔ (6/319-320) اس کے بعد تیسرا دور شروع ہوتا ہے جس کو حقیقی معنوں میں تعلیم و تعلم اور درس و تدریس کا دور کہا جا سکتا ہے۔ اس دور کا آغاز بنیادی طور پر اسلامی انقلاب کے بعد ظہور میں آیا۔ اس نئے دور کے آغاز کے لئے جو لازمی صورت حال درکار تھی وہ یہ کہ انسان اور انسان کے درمیان تفریق کا خاتمہ ہو۔ اور اس تفریق کا خاتمہ صرف اسلام کے بعد ممکن ہوا ۔ اسلام سے پہلے کا جو زمانہ ہے، اس وقت یہ حال تھا کہ انسانیت دو طبقوں میں بٹی ہوئی تھی_ اعلیٰ طبقہ (upper class) اور نچلا طبقہ (lower class) یا برتر نسل (superior race) اور کمتر نسل (inferior race)۔ مثال کے طور پر چین میں بادشاہ کو آسمانی اولاد (Son of Heaven) کہا جاتا تھا۔ ہندوستان میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ کچھ لوگ اعلیٰ ذات (upper class) کی حیثیت رکھتے ہیں جو بر ہما کے سر سے پیدا ہوۓ اور بقیہ لوگ درجہ بدرجہ اس کے نچلے دھڑ سے۔ تقریباً یہی حال دوسری قوموں اور ملکوں کا تھا۔ انسانیت کے درمیان اس تفریق و تقسیم کو پہلی بار اسلام نے ختم کیا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو عام طور پر مورخین نے تسلیم کیا ہے۔ اسلام نے جب انسانیت کے درمیان تفریق و تقسیم کو توڑا، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ تعلیم خواص کے دائرہ سے نکل کر عوام کے دائرہ تک پہنچ جائے ۔ وہ تمام انسانوں کے لئے قابل حصول چیز بن جائے۔ اس عمل کا آغاز عبادتی فعل سے ہوا۔ اسلام سے پہلے عبادت کی صورت یہ تھی کہ وہ ایک ایسا عمل سمجھا جاتا تھا جو براہ راست خدا اور بندے کے درمیان پیش نہیں آتا تھا بلکہ وہ ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader