تاریخ تعلیم
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
در میانی واسطہ (mediator) کے ذریعہ انجام پاتا تھا۔ اس تقسیم کی بنا پر مذہبی علم صرف اسی مذہبی پیشوا (priest) کے لئے ضروری تھا جو در میانی کردار ادا کر کے عبادت کے مراسم کی تکمیل کرے۔ یہی تقسیم تھی جس کی بنا پر پڑھنا لکھنا ہی پیشواؤں تک محدود اور عوام اس سے بے تعلق بنے رہے۔ اسلام نے پہلی بار عبادت کو انسان اور خدا کے درمیان ہونے والا براہ راست عمل قرار دیا۔ اس طرح لکھنا پڑھنا ہر انسان کی ذاتی ضرورت بن گیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ہر آدمی قرآن کو پڑھنے اور اس کو یاد کرنے لگا تاکہ وہ روزانہ اپنی عبادتوں میں قرآن کو پڑھے۔ دعا اور اذکار کے دوسرے کلمات کو بھی یاد رکھنے کے لئے لکھنے اور پڑھنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اسی طرح اسلام نے زندگی کے دوسرے معاملات میں ایسی اصلاحات کیں جن کے بعد خود انسانوں کے در میان خواص و عوام کی تقسیم ختم ہو گئی۔ انسانوں کے درمیان بظاہر فرق دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً رنگوں کا فرق، صلاحیت کا فرق، درجہ کا فرق۔ ان فرقوں کی بنا پر تاریخ کے قدیم زمانوں میں یہ سمجھا جاتا رہا کہ کچھ لوگ اونچے ہیں اور کچھ لوگ نیچے ۔ اسلام نے امتیاز پر مبنی اس تصور کا خاتمہ کیا اور کھلے طور پر یہ اعلان کیا کہ : اے لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔ اور تم کو قوموں اور خاندانوں میں تقسیم کر دیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پر ہیز گار ہے۔ بے شک اللہ جاننے والا، خبر رکھنے والا ہے (الحجرات (۱۳) یہی بات حدیث میں مختلف انداز میں آئی ہے۔ مثلاً پیغمبر اسلام نے فرمایا: ان العباد كلهم اخوة (سنن ابی داؤد) یعنی بلاشبہ تمام انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: والناس بنو آدم و خلق الله آدم من تراب (الترمذی، کتاب التفسیر) یعنی تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: الا لا فضل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader