تاریخ تعلیم
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
لعر بی علی اعجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لاحمر علی اسود ولا لاسود علی احمر الا بالتقوی۔ (مسند احمد ۴۱۱/۵) یعنی سنو، کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں۔ اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں اور کسی سرخ کو کسی سیاہ پر اور کسی سیاہ کو کسی سرخ پر کوئی فضیلت نہیں، مگر تقویٰ کی بنیاد پر۔ انسانی برابری کا یہ اعلان صرف اعلان نہ تھا بلکہ وہ ایک حقیقی عملی انقلاب کا مبنی فیشو تھا۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو اللہ کی خصوصی مدد سے یہ موقع ملا کہ وہ انسانی مساوات اور اخوت کانہ صرف اصولی اعلان کریں بلکہ زمین کے وسیع رقبہ میں انقلاب برپا کر کے اس کو عملاً قائم کر دیں۔ محققین نے عام طور پر تسلیم کیا ہے کہ انسانی مساوات کا عملی نظام تاریخ میں پہلی بار اسلام کے ذریعہ قائم ہوا۔ قدیم زمانہ میں علم اور تعلیم کا خواص کے دائرے میں محدود رہنا زیادہ تر انسانی عدم مساوات کی بنا پر تھا۔ جب نا برابری کا خاتمہ ہوا اور انسانی برابری کا دور آیا تو فطری طور پر وہ حالات پیدا ہو گئے جب کہ علم اور تعلیم کا دائرہ کسی مخصوص انسانی گروہ تک محدود نہ رہے، بلکہ وہ انسان کے تمام طبقوں تک پھیل جائے۔ اور اسلامی انقلاب کے بعد عملاً یہی پیش آیا۔ اسلام سے پہلے قدیم دور میں ہر جگہ بادشاہت (kingship) کا نظام قائم تھا۔ کچھ لوگوں کو مطلق حکمراں کا درجہ حاصل ہوتا تھا، اور بقیہ لوگوں کے لئے صرف یہ تھا کہ وہ ماتحت رعایا بن کر زندگی گزاریں۔ امتیاز پر مبنی اس سیاسی نظام نے علم اور تعلیم کو امراء اور حکام کے دائرے کی چیز بنا دیا تھا۔ عوام کا اس میں کوئی حصہ نہ تھا۔ اسلام نے اس آمرانہ نظام کے برعکس جمہوری شورائیت (الشوری ۳۸) کا تصور پیش کیا۔ اور اس کو عملاً قائم کیا۔ مورّخین نے تسلیم کیا ہے کہ قدیم بادشاہت کے نظام کا خاتمہ اسلامی انقلاب کے ذریعہ ممکن ہوا۔ مثال کے طور پر فرانسیسی مورّخ ہنری پرین (Henri Pirenne) نے لکھا ہے کہ اسلام نے اگر باز نطینی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کو توڑا نہ ہوتا تو دنیا سے شاید کبھی بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader