تاریخ تعلیم
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
سیاسی آمریت کا دور ختم نہ ہوتا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قدیم بادشاہی نظام کا ٹوٹنا اور اس کی جگہ پر جمہوری یا عوامی دور کا دنیا میں آنا صرف اسلامی انقلاب کے بعد ممکن ہوا۔ اس انقلاب کے مختلف سماجی نتائج تاریخ میں ظاہر ہوئے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ انسانی سماج میں خواص و عوام یا برتر طبقہ اور کمتر طبقہ کی تقسیم ختم ہو گئی۔ اس کے بعد عین اس کے فطری نتیجہ کے طور پر پڑھنے لکھنے کا رواج سارے انسانوں میں پھیل گیا، جو اس سے پہلے خواص کے دائرہ کی چیز بنا ہوا تھا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانکا (۱۹۸۳) میں بتایا گیا ہے کہ اسلام کے ظہور کے بعد مدرسوں یا درسگاہوں کا پھیلاؤ (expansion) بڑے پیمانہ پر ہوا۔ ابتداء میں تعلیم کے حلقے قائم ہوئے پھر ہر مسجد کے ساتھ ایک مکتب اس کے لازمی جزء کے طور پر بننے لگا۔ پھر مزید اضافہ ہوا اور مسجدوں میں قائم ہونے والے مکتب ناکانی نظر آئے تو کثرت سے مستقل مدرسے قائم ہونے لگے۔ عباسی دور تک پہنچ کر یہ سلسلہ مزید آگے بڑھا۔ اب بہت بڑے بڑے جامعات (universities) قائم ہونے لگیں۔ مثال کے طور پر نظامیہ اور مستنصریہ وغیرہ۔ (6/332-33) خلاصہ یہ کہ اسلام سے پہلے مختلف توہمات (superstitions) نے انسانی سماج کو اونچے اور نیچے طبقوں میں بانٹ رکھا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم صرف اونچے طبقہ کے لئے مخصوص ہو گیا اور نچلے طبقہ کے لوگ ہزاروں سال تک جہالت میں پڑے رہے۔ ساتویں صدی میں ظاہر ہونے والے اسلامی انقلاب نے تاریخ میں پہلی بار ان توہمات کا خاتمہ کیا۔ اس نے انسانی زندگی کا نظام توہمات کے بجائے حقائق فطرت کی بنیاد پر قائم کیا۔ اس انقلاب کے جو مثبت نتائج ظاہر ہوئے انہی میں سے ایک نتیجہ یہ تھا کہ علم خواص کے طبقہ سے نکل کر سارے انسانی گروہوں میں پھیل گیا۔ مدرسہ کا لفظ تعلیم کی تاریخ کا اسی طرح ایک مسلمہ حصہ بن چکا ہے جس طرح ایجوکیشن (education) کا لفظ انگلش ڈکشنری کا ایک مسلمہ حصہ ہے۔ انٹرنیٹ کو آج عالمی معلومات کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader