Urdu book · دین و شریعت

دین و شریعت

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

لفظ ٹائپ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی اسکرین پر اچانک مدرسہ کے بارے میں معلومات کا ایک دفتر سامنے آگیا ہے۔ دینی مدارس انیسویں صدی کے وسط سے لے کر اب تک بر صغیر ہند میں جو دینی یا اسلامی سرگرمیاں جاری ہوئیں ان میں غالباً سب سے اہم سرگرمی وہ تھی جس کو دینی مدارس کی تحریک کہا جاتا ہے۔ اس تحریک کے قائد زیادہ تر علماء تھے۔ ان کی مسلسل کوشش سے اس پورے خطۂ ارض میں مدارس کا جال (network) قائم ہو گیا۔ چھوٹے بڑے مدارس اتنی کثرت سے وجود میں آئے کہ شاید کوئی بھی علاقہ اس سے خالی نہیں رہا۔ علماء اسلام نے صرف یہی نہیں کیا کہ ادارہ کی صورت میں باقاعدہ مدرسے قائم کئے، اسی کے ساتھ ان کی ذات بھی مسلسل طور پر لوگوں کے لئے علم اور تعلیم کا مرجع بنی رہی۔ حتی کہ یہ گویا علماء کی روایت بن گئی کہ ان کا گھر لوگوں کے لئے تعلیم گاہ کا کام کرنے لگا۔ میں خود بھی مدرسہ کی باقاعدہ تعلیم کے علاوہ اپنی زندگی کے بیشتر حصہ میں مسلسل طور پر علماء اسلام سے وابستہ رہا ہوں۔ اور ان سے برابر علمی اور دینی استفادہ کرتا رہا ہوں۔ علم کی اہمیت اسلام میں علم کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اللہ کی شریعت پیغمبروں کے اوپر کتاب کی صورت میں اتاری گئی اور قلم کے ذریعہ اس کو لکھا گیا (العلق ۴-۵)۔ یہ قلم اور کتاب دونوں علم ہی کی علامت ہیں۔ وحی کو قلم اور کتاب سے وابستہ کرنا بذاتِ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ دین خداوندی کی بنیاد علم پر قائم کی گئی ہے۔ قرآن میں علم کی دو قسمیں بتائی گئی ہیں۔ یہ دو قسمیں اس آیت سے معلوم ہوتی ہیں : ايتوني بكتاب من قبل هذا أو أثارة من علم إن كنتم صدقين (الاحقاف (۴) یعنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page