Urdu book · دین و شریعت

دینی مدارس

Urdu book, p. 85

By Maulana Wahiduddin Khan

میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب لے آؤ یا کوئی علم جو چلا آتا ہو، اگر تم سچے ہو۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، علم کا پہلا مآخذ آسمانی کتاب ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں الہامی علم (revealed knowledge) کہا جا سکتا ہے۔ یہاں الہامی علم سے مراد وہ الہامی علم ہے جو تاریخی طور پر ثابت شدہ ہو۔ محض دعویٰ کی بنیاد پر کوئی الہامی علم نہیں ہو سکتا۔ اس اعتبار سے آج قرآن ہی الہامی علم کے حقیقی نمائندہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسری مقدس کتابیں، تاریخی طور پر ثابت شدہ نہ ہونے کی بنا پر الہامی علم کے لئے معتبر ماخذ کی حیثیت نہیں رکھتیں۔ دوسرا علم وہ ہے جس کے لئے قرآن میں اثارۃ من علم کا لفظ آیا ہے۔ اثار کے معنی ہیں نقل کرنا۔ ”اثارۃ“ کی تشریح ”المفردات فی غریب القرآن، الامام راغب“ میں ان الفاظ میں کی گئی ہے: وهو ما يروى او يكتب فيبقى له اثر (صفحہ ۹) یعنی اس سے مراد وہ علم ہے جس کی روایت کی جائے یا جس کو لکھا جائے پھر اس کا اثر باقی رہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ اس سے مراد غالباً وہ مبنی بر فطرت علم ہے جس کو موجودہ زمانہ میں مصدقہ علم (verified knowledge) کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ علم جو مسلسل تحقیق اور مشاہدہ اور تجربہ سے درست ثابت ہو یہاں تک کہ اہل علم کے درمیان اس کو عمومی قبولیت (general acceptance) حاصل ہو جائے۔ ان دونوں قسم کے علوم کو دوسرے لفظوں میں الہامی علم اور سائنسی علم کہا جا سکتا ہے۔ قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دونوں ہی علم انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: إتقوا الله ويعلمكم الله (البقره ۲۸۲) یعنی اللہ سے ڈرو اور اللہ تم کو سکھائے گا۔ قرآن کی اس آیت میں علم کا تعلق تقویٰ سے بتایا گیا ہے۔ یعنی جو آدمی اپنے اندر تقویٰ کی صفت پیدا کرے گا وہ علم سے بہرہ ور ہو گا۔ تقویٰ آدمی کے اندر سنجیدگی پیدا کرتا ہے۔ اور کامیاب علمی سفر میں سنجیدگی لازمی شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔ دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: و من الجبال جدد بيض وحمر مختلف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page