دینی مدارس
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
الوانها وغرابيب سود، ومن الناس والدواب والانعام مختلف الوانه كذلك، انما يخشى الله من عباده العلماء (فاطر ۲۷-۲۸) یعنی اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ رنگوں کے ٹکڑے ہیں اور گہرے سیاہ بھی۔ اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی مختلف رنگ کے ہیں۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ اس آیت میں پہاڑ اور جانور (دوسرے لفظوں میں جمادات اور حیوانات) فطرت کے مظاہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ فطرت کے مظاہر کا مطالعہ بھی اسی طرح خشیت اور تقویٰ کا سر چشمہ ہے جس طرح الہی کتاب کا مطالعہ۔ علم کی دو قسموں کی اس اہمیت کا تقاضا تھا کہ مدارس کے نصاب میں دو قسم کی کتابیں رکھی جائیں۔ چنانچہ علماء نے ایسا ہی کیا۔ انھوں نے ایک کو منقولات کہا اور دوسری کو معقولات۔ یہ تقسیم شرعی اور عقلی دونوں اعتبار سے بالکل درست ہے۔ مدرسہ یا تعلیم گاہ کے بارے میں قرآن کا تصور کیا ہے، اس کا جواب ہم کو قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: وما كان المؤمنون لينفروا كافة فلولا نفر من كل فرقة منهم طائفة ليتفقهوا في الدين ولينذروا قومهم اذا رجعوا اليهم لعلهم يحذرون (التوبہ ۱۲۲)۔ یعنی اور یہ ممکن نہ تھا کہ اہل ایمان سب کے سب نکل کھڑے ہوں۔ تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ سے ایک حصہ نکل کر آتا تا کہ وہ دین میں سمجھ پیدا کرتا اور واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتا تا کہ وہ بھی پر ہیز کرنے والے بنتے۔ قرآن کی اس آیت میں تفقہ فی الدین کا لفظ تقریباً اسی معنی میں آیا ہے جس معنی میں علم دین کے حصول کا لفظ بولا جاتا ہے۔ اس آیت کے مطابق، علم دین کے حصول کے مقاصد بنیادی طور پر دو ہیں۔ ایک یہ کہ طالب علم خود بخوبی طور پر اسلام کی تعلیمات سے واقف ہو۔ اس کی رسائی ان معارف و حقائق تک ہو جائے جو قرآن و سنت میں بیان کئے گئے ہیں۔ اس کا دوسرا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader