دین و شریعت
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
مقصد وہ ہے جس کو انذار قوم کہا گیا ہے یعنی پرامن طور پر تمام انسانوں تک اسلام کا پیغام پہنچانا۔ ہر پیدا ہونے والے انسان کو اس ہدایت سے باخبر کرنا جو خالق کائنات نے اسلام کی صورت میں نازل فرمائی ہے۔ انہی دو طرفہ تقاضوں کا یہ نتیجہ ہے کہ مدارس دینیہ میں ابتدائی ہی سے یہ تصور رہا ہے کہ ان مدارس کے فارغین بیک وقت دو صفات کے حامل ہوں۔ وہ عالم بھی ہوں اور اسی کے ساتھ داعی بھی۔ ایک طرف وہ علم دین میں قابل اعتماددستگاہ حاصل کریں اور دوسری طرف وہ اپنی پڑوسی قوموں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ تحریک مدارس کا آغاز ۱۹ ویں صدی عیسوی میں برصغیر ہند کے مسلمان بیک وقت کئی سنگین مسائل سے دوچار ہوئے۔ ایک طرف لمبی مدت سے قائم شدہ مسلمانوں کا سیاسی اقتدار ختم ہوگیا۔ دوسری طرف برٹش حکومت نے ملک پر مکمل قبضہ کر لیا، وغیرہ۔ ان حالات میں مسلمان سخت ذہنی انتشار کا شکار تھے۔ ان کے سامنے کوئی واضح راہ عمل (line of action) موجود نہ تھی۔ ایسے نازک وقت میں علماء اسلام نے اللہ کی توفیق سے برصغیر ہند کے مسلمانوں کو سمت کا شعور (sense of direction) دیا۔ مسلم اقتدار کے خاتمہ کے بعد یہ علماء نئے دور میں مسلمانوں کی نشأۃ جدیدہ کے معمار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہ نے ان کے لئے مقدر کر دیا تھا کہ وہ انیسویں صدی میں پیش آنے والے مسلم زوال کے نتائج کا براہ راست مشاہدہ کریں تاکہ وہ نئے دور میں مسلمانوں کی حیات نو کی مبنی بر حقیقت منصوبہ بندی کر سکیں۔ علماء ہند نے مدارس کے قیام کے سلسلہ میں جو کوششیں کیں وہ انیسویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس مدت میں جو درسے قائم کئے گئے، ان میں سے صرف چند ابتدائی مدارس کا ذکر یہاں بطور مثال کیا جاتا ہے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader