تحریک مدارس کا آغاز
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
۱- دارالعلوم دیوبند ۱۸۶۶ ۲- دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ ۱۸۹۴ ۳- مدرسۃ الاصلاح سرائے میر، اعظم گڑھ ۱۹۰۹ ۴- مدرسہ باقیات الصالحات ویلور، تامل ناڈو ۱۸۸۳ ۵- دارالعلوم خلیلیہ نظامیہ ٹونک ۱۸۹۹ ۶- مدرسہ امینیہ دہلی ۱۸۹۷ ۷- مظاہر العلوم سہارنپور ۱۸۶۶ ۸- جامعہ دارالسلام عمر آباد ۱۹۲۴ ۹- جامعہ مظہر العلوم بنارس ۱۸۹۳ ۱۰- جامعہ عربیہ حیات العلوم مبارک پور ۱۸۹۹ یہ مدارس سادہ طور پر صرف مدارس نہ تھے بلکہ وہ ملت مسلمہ کو ایک مثبت میدانِ کار کی طرف رہنمائی دینے والے تھے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اس دور کے علماء کا گروہ برصغیر ہند کے مسلمانوں کے لئے رائد (trend setter) کے مقام پر کھڑا ہوا نظر آئے گا۔ اس ابتدائی دور کے علماء نے مدارس کی صورت میں جو تعلیمی ادارے قائم کئے وہ پورے ملک میں ایک قسم کی تعلیمی بیداری کا ذریعہ بن گئے۔ اس کے بعد برصغیر ہند میں جو دینی مدارس قائم ہوئے وہ تقریباً سب براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اسی ابتدائی تحریکِ مدارس کے اثرات کا نتیجہ تھے۔ علم بلاشبہ کسی انسان کا سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہے۔ علم معمولی انسان کو غیر معمولی انسان بناتا ہے۔ علم ہر قسم کی انسانی ترقی کا واحد یقینی ذریعہ ہے۔ مسند احمد (۴۱۴/۳) اور حدیث کی دوسری کتابوں میں ایک روایت آئی ہے جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ما نحل والد ولدہ أفضل من أدب حسن۔ (الترمذی، کتاب البر) یعنی کسی والد نے اپنی اولاد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader