تحریک مدارس کا آغاز
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
کو اچھی تعلیم و تربیت سے زیادہ افضل کوئی چیز نہیں دی۔ اس حدیث میں والد اور اولاد کے لفظ کو اگر تو وسیع معنی میں لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اولاد سے مراد افراد ملت ہیں اور والد سے مراد ملت کے رہنما۔ یعنی کوئی ملی رہنما اگر اپنی ملت کی بہتر تعلیم و تربیت کا انتظام کرے تو وسیع تر انطباق کے اعتبار سے وہ بھی اس حدیث رسول کا مصداق قرار پائے گا۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ اس دور کے علماء نے ملت مسلمہ کو یہی سب سے زیادہ قیمتی تحفہ دیا ہے۔ اللہ کی توفیق سے انھیں یہ موقع ملا کہ وہ علم دین کا ایسا سلسلہ جاری کریں جو نسل در نسل مسلمانوں میں چلتا رہے۔ جو غیر منقطع طور پر مسلم نسلوں کو فائدہ پہنچاتا رہے۔ چیلنج کا مثبت جواب پچھلے ڈیڑھ سو سال کے اندر برصغیر ہند میں، اسلام اور ملت اسلام کے حوالہ سے جو تحریکیں اٹھیں، ان میں غالباً سب سے زیادہ دور رس اور نتیجہ خیز تحریک یہی زیر بحث تحریک تھی۔ اس تحریک کو مدارس دینیہ کی تحریک یا تحریک مدارس کہا جاتا ہے۔ مدارس دینیہ کی تحریک کا فکری آغاز متعین کرنا ہو تو غالباً وہ ۱۸۳۴ء ہوگا ۔ جیسا کہ معلوم ہے، اسی سال برطانیہ کا مشہور مدبر لارڈ میکالے (Thomas Babington Macaulay) لندن سے ہندوستان آیا۔ اس وقت یہاں برطش اقتدار قائم ہو چکا تھا۔ لارڈ میکالے نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد ایک تعلیمی اسکیم بنائی۔ اسی اسکیم کی بنیاد پر اس کے بعد ہندوستان میں وہ نظام تعلیم جاری ہوا جس کو انگریزی نظام تعلیم کہا جاتا ہے۔ اس تعلیمی نظام کو جس مقصد کے تحت بنایا گیا تھا وہ خود میکالے کے الفاظ میں یہ تھا کہ یہاں ایک ایسی نسل اٹھے جو کہ پیدائش کے اعتبار سے ہندوستانی اور فکر کے اعتبار سے انگریز ہو : So that a generation may arise, which is Indian in birth and English in thought.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader