تحریک مدارس کا آغاز
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ بلاشبہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ مدارس دینیہ کی تحریک اصلاحی چیلنج کے جواب کے طور پر ظہور میں آئی۔ علماء کی اس تعلیمی اسکیم کا نشانہ لارڈ میکالے کے مذکورہ بیان کی روشنی میں بتایا جائے تودہ غالباً یہ ہوگا کہ یہاں ایک ایسی نسل اٹھے جو پیدائش کے اعتبار سے ہندوستانی اور اپنے فکر و خیال کے اعتبار سے مسلمان ہو۔ تاریخ بتاتی ہے کہ لارڈ میکالے کا منصوبہ کامیاب نہیں ہوا اور علماء ہند کا منصوبہ اللہ کی توفیق سے کامیاب رہا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج بر صغیر ہند میں مسلمان اپنی دینی شناخت کے ساتھ پوری طرح موجود ہیں۔ مغربی تہذیب کا طوفان مسلمانوں کی ملی شناخت کو مٹانے میں کامیاب نہ ہو سکا، اور یہ زیادہ تر انھیں مدارس کا کارنامہ ہے جن کو علماء نے اپنی قربانیوں سے قائم کیا تھا۔ ہندوستان دار التعليم ہے سب سے زیادہ مشکل کام فیصلہ کو بدلنا ہے۔ صحابی رسول خالد بن الولید نے غزوہ موتہ (۸ھ) کے موقع پر یہی جرأت مندانہ فیصلہ کیا تھا۔ ہندوستانی علماء نے انیسویں صدی کے وسط میں اسی عظیم سنت کو دہرایا۔ جیسا کہ معلوم ہے ، شاہ عبد العزيز دہلوی نے ۱۸۲۳ میں یہ فتویٰ دیا کہ ہندوستان دار الحرب ہو چکا ہے۔ اس کی تعمیل میں علماء ہند کی ایک جماعت نے دشمن طاقتوں کے خلاف مسلح جہاد کا آغاز کر دیا۔ مگر تقریباً ۴۰ سال کے تجربہ نے اس کو غیر مفید ثابت کیا۔ اب علماء نے اس معاملہ پر نظر ثانی کی اور ایک اور بلا اعلان "فتویٰ" دیا۔ اپنے معنی کے اعتبار سے یہ دوسرا فتویٰ یہ تھا کہ ــــــــ ہندوستان دارالتعليم ہو چکا ہے۔ اب تمام مسلمانوں کو تعلیم کے میدان میں سرگرم ہو جانا چاہئے۔ یہ نیا فیصلہ اتنا اہم تھا کہ اس نے متنوع قسم کے مثبت نتائج پیدا کئۓ۔ اہل مدارس کی قربانیاں ہندوستان کو ”دار التعليم“ قرار دینے کے بعد، پچھلے ڈیڑھ سو سال کے اندر ملک میں مدارس دینیہ کا جو پھیلاؤ ہوا ہے وہ اپنے آپ نہیں ہو گیا بلکہ وہ ہزاروں علماء کی خاموش قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ ڈیڑھ سو سال پہلے کوئی عالم صرف یہ کر سکتا تھا کہ وہ ایک تعلیمی منصوبہ پیش کرے یا ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader