شریعت کی رہنمائی
Urdu book, p. 96
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ اس میں مداومت کی صفت پیدا ہو گئی۔ وہ اپنی اس صفت کی بنا پر اللہ کی پسندیدہ تحریک قرار پائی۔ اور نتیجہ بہت سے فوائد کا سبب بنی۔ علماء نے تحریک مدارس کی صورت میں جو کام کیا اس کی خاص صفت یہ تھی کہ یہ کام اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایسا کام تھا جو شروع ہونے کے بعد مسلسل جاری رہ سکے۔ چنانچہ وہ تقریبا ڈیڑھ سو سال سے برصغیر ہند میں جاری ہے اور دن بدن ترقی کر رہا ہے۔ اس مدت میں یہ کام نہ صرف برصغیر ہند میں پھیلا ہے بلکہ اس نظام کے تربیت پائے ہوئے افراد باہر کے ملکوں میں بھی جاکر کثیر تعداد میں چھوٹے اور بڑے مدارس قائم کر چکے ہیں۔ ان کی نہ صرف تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ نوعیت کے اعتبار سے بھی ان میں مختلف قسم کی ترقیاں وقوع میں آئی ہیں۔ مثلاً لڑکوں کے مدرسہ کے علاوہ لڑکیوں کے بڑے بڑے مدرسہ کا قائم ہونا، مدرسوں کا ماڈرنائز کیا جانا، مدرسوں میں کمپیوٹر اور دوسری نئی چیزوں کا اضافہ۔ مدرسوں میں مختلف علمی شعبوں کا اضافہ، مثلاً دار الافتاء، تصنیف و تالیف، دعوت و تبلیغ اور صحافت، وغیرہ۔ ان علماء کے کام کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ایک ایسی صحت مند روایت (healthy tradition) کو قائم کرنے کا سبب بنے جو ان کے بعد مسلسل جاری رہی اور بے شمار لوگ اس روایت کو لے کر آگے بڑھتے رہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہو گا کہ ان علماء کی جاری کردہ تحریک مدارس اس ارشاد رسول کی مصداق ہے : لا یسن عبد سنة صالحة يعمل بها بعده الا كتب له مثل اجر من عمل بها ولا ينقص من اجورهم شي (صحیح مسلم، کتاب العلم، صفحه (۲۲۶)۔ یعنی جب بھی کوئی بندہ ایک صالح سنت کو جاری کرتا ہے جس پر اس کے بعد عمل کیا جائے تو اس کے لئے بھی اتنا ہی ثواب لکھ دیا جاتا ہے جتنا اس کے بعد عمل کرنے والوں کے لئے ، اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ اس حدیث میں صالح سنت سے مراد صحت مند روایت (healthy tradition) ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان علماء کی جاری کردہ تحریک مدارس اسی قسم کی ایک صالح سنت تھی۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader