شریعت کی رہنمائی
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
لئے جن لوگوں نے اب تک اس روایت پر عمل کیا یا آئندہ جو لوگ اس پر عمل کریں گے ان سب کے اجر وثواب کے بقدر اجر وثواب اس کے ابتدائی معماروں کو بھی ملتا ر ہے گا، بغیر اس کے کہ بعد کو عمل کرنے والوں کے اجر وثواب میں کوئی کمی کی گئی ہو۔ پر امن میدانِ عمل انیسویں صدی عیسوی میں جب مغربی استعمار کا مسئلہ نمایاں طور پر سامنے آیا تو اس کے خلاف مسلم رہنماؤں کا پہلا ردِ عمل متشد دانہ تھا۔ چنانچہ انھوں نے انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد (۱۸۵۷ء) کیا۔ مگر یہ جہاد اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس تجربہ کے بعد انھوں نے اپنے طریقہ کار کو بدل دیا۔ یہ مسلح جہاد حکماً اگر چہ ایک اسلامی فعل تھا، مگر اجتماعی معاملات میں کسی اقدام کے بارے میں صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ حکماً وہ صحیح ہے یا نہیں۔ اس کے ساتھ یہ دیکھنا بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ وہ عملی طور پر نتیجہ خیز ہے یا نہیں۔ ایک طریقِ کار، تجربہ کے بعد نتیجہ خیز ثابت نہ ہو تو عقل و شریعت کا تقاضا ہے کہ طریقِ کار کو بدل دیا جائے۔ مثال کے طور پر رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے سردارانِ قریش سے بدر (۲ھ) کے مقام پر مسلح مقابلہ کیا۔ مگر اس کے بعد انہی سردارانِ قریش سے حدیبیہ (۶ھ) کے مقام پر آپ نے صلح کر لی۔ اسی طرح غزوہ اُحد (۳ھ) کے موقع پر آپ نے مدینہ سے تین میل باہر نکل کر حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، مگر اس کے بعد انہیں حملہ آوروں سے غزوہ احزاب (۵ھ) کے موقع پر مدینہ کے اندر رہتے ہوئے دفاع کا انداز اختیار کیا، وغیرہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح صالح مقصد کے لئے اقدام کرنا ایک پیغمبرانہ سنت ہے اسی طرح دفاعی تدبیر کو بدل لینا بھی ایک پیغمبرانہ سنت ہے۔ دونوں کام یکساں طور پر اسلامی ہیں اور سنتِ رسول بھی۔ ہندوستان کے علماء نے اسی معلوم سنت پر عمل کیا چنانچہ انھوں نے مسلح جہاد کو غیر موثر دیکھ کر اپنے میدان کار کو بدل دیا۔ اور تعلیم کو اپنا میدانِ عمل بنا لیا۔ گویا کہ مدرسہ ملی جدوجہد کو تشدد کے میدان سے نکال کر امن کے میدان میں لانے کا عنوان ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader