ڈائری
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے رحمت اور فضل سے ڈھانپ لے (الا ان يتغمده الله برحمة منه وفضله) میں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کا عمل محدود ہے اور جنت لا محدود۔ اور محدود کی کوئی بھی مقدار لا محدود کا بدل نہیں بن سکتی۔ کسی شخص کے پاس کتنا ہی زیادہ عمل ہو ، وہ بہرحال محدود ہوگا۔ پھر محدود کی قیمت میں لامحدود چیز کیسے مل سکتی ہے۔ یہ تو اسی وقت ممکن ہے جب کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کو شامل کرکے اس فاصلہ کو ختم کردے۔ میں نے کہا کہ میرے پاس ایک روپیہ ہے اور آپ کے پاس ایک کروڑ روپیہ، تو میرے اور آپ کے درمیان مقدار کا فرق ہوا۔ مگر جس کے پاس بے حساب خزانہ ہو، جو کبھی ختم ہی نہ ہوسکے ، تو اس کے اور ہمارے درمیان نوعیت کا فرق ہو جائے گا۔ اور جہاں نوعیت کا فرق آجائے ، وہاں مقدار کا فرق محض اضافی بن جاتا ہے۔ انسان کے عمل اور رضا کی جنت کے درمیان نوعیت کا فرق ہے نہ کہ مقدار کا۔ اور جہاں دو چیزوں میں نوعیت اور مقدار کا فرق ہو وہاں مقدار کا کوئی بھی اضافہ دونوں کو مساوی قرار دینے کے لئے کافی نہیں۔ ۳ جنوری ۱۹۸۳ مولانا حمید الدین فراہی نے سورہ فیل کی ایک منفرد تفسیر کی ہے۔ اس سورہ میں عام طور پر ترمیم کو واحد مونث کا صیغہ مان کر یہ ترجمہ کیا جاتا ہے کہ چڑیاں ان کے اوپر سنگر پھینکتی تھیں۔ مگر مولانا فراہی نے اس کو مخاطب کا صیغہ مان کر " تم ان پر پھینکتے تھے " کا ترجمہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کنکر پھینکنے والے خود اہل مکہ تھے۔ اور چڑیاں جو وہاں آئی تھیں وہ سنگ باری کے لئے نہیں بلکہ وہ لاشوں کو کھانے کے لئے آئی تھیں۔ گرافت کے اعتبار سے یہ بات درست نظر نہیں آتی۔ کیوں کہ قرآن اگر اہل مکہ کے بارہ میں کہہ رہا ہوتا کہ تم لوگ ابرہہ کے لشکر پر کنکر پھینکتے تھے تو آیت میں ترمیم کے بجائے ترمینھم کا لفظ آ نا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader