Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

رہا تھا۔ جلوس کے آگے سواروں کا ایک دستہ تھا۔ اس کے پیچھے پی اے سی (PAC) بینڈ کا ایک دستہ۔ اور آخر میں پی اے سی کا مسلح دستہ تھا۔ اس دستہ نے اپنے رائفل کا رخ پیچھے کی طرف کر رکھا تھا۔ ایک اخبار نے اس واقعہ کی رپورٹ ان الفاظ میں دی: ”پی اے سی کے مسلح دستہ نے احتراماً اپنے اسلحہ پیچھے کر لئے تھے“۔ قومی آواز، لکھنؤ، ۱۱ جون ۱۹۴۳ یہ محض رپورٹر کی غلط فہمی تھی۔ رائفل کا رخ پیچھے کرنا دراصل ماتی پریڈ کی علامت ہے۔ یہ چوں کہ ایک اتنی جلوس تھا، اس لئے پی اے سی کے دستہ نے اپنی رائفلوں کا رخ پیچھے کی طرف کر لیا تھا۔ عدم واقفیت سے کیسی عجیب عجیب غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ ۱۱ جنوری ۱۹۸۳ آزادی ہند کی تحریک کے زمانہ میں کانگریس نے شراب بندی کی تحریک چلائی۔ ”شراب بند کرو“ کے نعروں سے ملک کی فضا گونج اٹھی۔ انھیں دنوں گجرات کے ایک مسلمان نے شراب کا ٹھیکہ حاصل کیا۔ اس کا نام گل محمد تھا۔ مولانا ظفر علی خاں نے اپنے اخبار زمیندار میں اس واقعہ پر ایک نوٹ لکھا جس کا عنوان یہ تھا: گل محمد نام سے فروشی کام مذکورہ شخص پر اس نوٹ کا اتنا اثر ہو کہ اس نے شراب کا ٹھیکہ ختم کر دیا اور لاہور چلا گیا۔ گل محمد کا یہ عمل محض اخبار زمیندار کے نوٹ کا نتیجہ نہ تھا۔ اس میں زیادہ بڑا دخل روایات اور حالات کا تھا۔ اس وقت تک متدین اسلامی روایات زندہ تھیں ۔ نیز کانگریس کی مخالف شراب تحریک نے ہر طرف اس کے خلاف فضا بنا رکھی تھی، اخبار کے مذکورہ نوٹ نے ایک طرف گل محمد کے روایتی ذہن کو جھنجھوڑا۔ دوسری طرف ماحول کا دباؤ پڑا۔ ان چیزوں کے اثر سے اس نے اپنا شراب کا کاروبار بند کر دیا۔ آج بہت سے مولانا ظفر علی خاں ہیں جو اسی طرح کی باتیں سکتے رہتے ہیں۔ مگر کوئی اس قسم کی باتوں سے اثر قبول نہیں کرتا۔ کیوں کہ اب قدیم روایات ٹوٹ چکی ہیں۔ نیز آج شراب کے خلاف وہ ماحول نہیں جو اس زمانہ میں وقتی طور پر بن گیا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page