ڈائری
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
چاہیے تھا ۔ اس منتقد و تفسیر میں مولا نا فراہی کا انحصار زیادہ تر کلام عرب پر ہے۔ انھوں نے کچھ قدیم اشعار پیش کر کے دکھایا ہے کہ ” قتل گاہوں اور جنگ کے میدانوں میں گوشت خور چڑیوں کا جمع ہونا عربوں میں ایک معلوم و مشہور بات تھی۔ وہ فوج کے ساتھ چڑیوں کے جھنڈ کو دیکھ کر فیصلہ کر لیتے تھے کہ لڑائی ضرور ہو گی۔ بعض شعرا اپنی فوجوں کے ذکر کے ساتھ چڑیوں کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ چڑیوں کو اندازہ ہو گیا ہے کہ میدان جنگ میں بے شمار لاشیں کھانے کو ملیں گی، اس لئے وہ بھی فوج کے ساتھ ہوگئی ہیں ۔“ انھوں نے جو چند اشعار نقل کئے ہیں ان میں سے ایک جاہلی شاعر ابو نو اس ہے۔ اس کا شعر حسب ذیل ہے : تَأْتِی الطَّیْرَ غَدْوَتَهُ تثقة بالشَّبْعِ مِنْ جَزَرِەْ جب وہ (جنگ کے لئے) روانہ ہوتا ہے تو گوشت خور چڑیاں اس کے ساتھ اس یقین کے ساتھ چلتی ہیں کہ وہ مقتولوں سے خوب پیٹ بھریں گی۔ ابونو اس کا مذکورہ شعر یا اس طرح کے دوسرے اشعار محض شاعرانہ تصویر کشی کے طور پر ہیں۔ مگر مولانا فراہی نے اس کو حقیقت واقع سمجھ لیا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ محض عربی دانی عربی کلام کو سمجھنے کے لئے کافی نہیں۔ عربی کا مشہور مقولہ ہے : تعرف الاشياء باضدادها (چیزیں اپنے ضد سے پہچانی جاتی ہیں)، مولانا فراہی اگر اس مقولہ کی روشنی میں دیکھتے تو انھیں نظر آتا کہ قدیم زمانہ سے لے کر جدید زمانہ تک بے شمار جنگیں ہوئی ہیں اور ان کے تفصیل حالات بھی لکھے ہوئے موجود ہیں۔ مگر کسی جنگ میں یہ مذکور نہیں کہ فوج جب روانہ ہو تو اس کے ساتھ چڑیوں کے غول بھی چھتری بنائے ہوئے اڑ رہے ہوں ۔ اگر وہ اس طرح مختلف واقعات کی روشنی میں دیکھتے تو وہ آسانی سے سمجھ لیتے کہ بعض عرب شعرا نے اپنے سواروں کی تعریف میں مذکورہ قسم کی جو بات کہی ہے وہ محض شاعرانہ تصویر کشی ہے نہ کہ کوئی حقیقت واقعہ۔ ایک روسی شہری ایک بار پنساری کے یہاں سے کچھ سامان خرید کر لے آیا۔ گھر آکر پڑیا کھولی تو اس کی نظر ردی کا کاغذ پر چھپی ہوئی ایک عبارت پر پڑی۔ یہ ایک آتشیں خبر تھی۔ چنانچہ اس کو پڑھ کر وہ تڑپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader