ڈائری
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں نے ۱۸۵۷ء میں مسلح بغاوقت کے ذریعہ ہندوستان کو آزاد کرانا چاہا۔ مگر اسلام کی طاقت میں انگریزوں سے بہت زیادہ بڑھا ہوا تھا اس لئے یہ بغاوت صد فی صد ناکام رہی۔ اس کے بعد مسلم لیڈروں نے ”ریشی رومال“ جیسی تحریکیں چلائیں۔ ان کا مقصد بیرونی ممالک سے مدد لے کر ہندوستان میں انگریزی اقتدار کو ختم کرنا تھا۔ مگر یہ تحریک بھی صد فی صد ناکام رہی۔ کیوں کہ باہر کے ملکوں نے ہمارے قائدین کی خوش فہمیوں کے برعکس ان کا ساتھ نہیں دیا۔ اس کے بعد ترکی کی خلافت کے نام پر جلسہ جلوس کا ہنگامہ کھڑا کیا گیا ۔ اندازہ یہ تھا کہ ترکی کی مردہ خلافت دوبارہ زندہ ہو جائے گی۔ اور ہندوستان کی آزادی میں مددگار ثابت ہوگی۔ مگر ۱۹۲۴ء میں مصطفی کمال پاشانے خلافت کے ختم شدہ ادارہ کے آخری خاتمہ کا اعلان کر دیا اور ہمارے رہنماؤں کی خلافت تحریک اچانک کٹی ہوئی شاخ کی طرح زمین پر گر پڑی۔ مسلم رہنما تشدد کے ذریعہ ہندوستان کو آزاد کرانا چاہتے تھے۔ مگر یہ منصوبہ سراسر ناکام ہو گیا۔ اس کے بعد مہاتما گاندھی منظر پر آئے۔ انھوں نے عدم تشدد کی تدبیر کو کامیابی کے ساتھ استعمال کیا۔ یہاں تک کہ ۱۹۴۷ء میں ہندوستان آزاد ہو گیا۔ تحریک آزادی کے اس دوسرے دور میں مہاتما گاندھی کو قائد کا مقام حاصل تھا اور مسلم رہنماؤں کو صرف پیروکا۔ ایسی حالت میں ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ تاریخ کے فیصلہ کے تحت ہو رہا ہے۔ اس کی ذمہ داری تاریخی حقائق پر ہے۔ اس کے لئے ہندو یا حکومت کی شکایت کرنا ماضی کی بے وقوفی پر حال کی بے وقوفی کا اضافہ کرنا ہے۔ ۷ جون ۱۹۸۳ء چڑیا کو اڑتی ہوئی دیکھ کر خیال آیا کہ خدا اشاروں کی زبان میں ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ دنیا کی تمام چیزیں اس ڈھنگ پر بنائی گئی ہیں کہ ان سے انسان کو ہر قسم کا مفید سبق ملتا رہے۔ گھوڑے کو خدا نے زمین پر دوڑادیا۔ اس کو دیکھ کر انسان کا ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ وہ گاڑی بنائے۔ گاڑی بنیادی طور پر گھوڑے کی نقل ہے، اس فرق کے ساتھ کہ گھوڑے کے پاؤں کو گاڑی کے پہیہ کی صورت میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح خدا نے مچھلی کو پانی میں تیرا یا تاکہ انسان کشتی اور جہاز بنانے کی بات سوچ سکے ۔ خدا نے چڑیوں کو ہوا میں اڑایا تا کہ اس کو دیکھ کر انسان کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader