ڈائری
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
علمِ حدیث میں ایک چیز ہے جس کو ” جرح و تعدیل “ کہتے ہیں۔ راوی کے اوصاف و خصائل کی تحقیق کے بعد اس کے ان عیوب کا اظہار کرنا جو اس کی روایت کے قبول کرنے میں حارج ہوں، جرح کہلاتا ہے۔ اور راوی کے اخلاق و کردار کی تحقیق کے بعد یہ بتانا کہ راوی ثقہ ہے، تعدیل کہلاتا ہے۔ راویوں کی چھان بین کے اس کام میں سیکڑوں محدثین نے اپنی عمریں صرف کر دیں۔ وہ ایک ایک شہر گئے۔ راویوں سے ملے۔ ان کے پڑوسیوں سے ملاقاتیں کیں۔ ان کے حلقہ تعارف سے رابطہ قائم کیا۔ جو رواۃ اس زمانہ میں موجود نہ تھے ان کے دیکھنے والوں سے ان کے حالات معلوم کئے۔ اس طرح راویوں کے حالات کا ایک پورا انسائیکلو پیڈیا تیار کر ڈالا۔ اسی کو دیکھ کر ڈاکٹر اسپرنگ (Sprenger) نے کہا تھا کہ مسلمان اس خصوصیت میں ممتاز ہیں کہ انھوں نے اپنے پانچ لاکھ علماء کے حالات محفوظ رکھے۔ مگر یہ کام آسانی سے نہیں ہو گیا۔ اس پر اس زمانہ کے لوگوں کی طرف سے زبردست اعتراضات کئے گئے۔ کیوں کہ یہ طریقہ نہ صرف اشخاص پر تنقید سے تعلق رکھتا تھا، بلکہ بظاہر وہ غیبت اور تجسس تک پہنچتا تھا۔ محدثین کو بار بار یہ وضاحت کرنی پڑی کہ معرفتِ حدیث کا یہ طریقہ (جس رح و تعدیل) غیبت نہیں ہے بلکہ شریعتِ اسلامی کے عین مطابق ہے۔ محدثین کے حالات میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں، ان میں اس طرح کے واقعات کثرت سے موجود ہیں۔ مثلاً ابوتراب نخشی نے امام احمد بن حنبل سے کہا کہ علماء اسلام کی غیبت نہ کیجئے : اس کے جواب میں امام احمد بن حنبل نے کہا: افسوس ہے تمہارے اوپر ، تم کو جاننا چاہئے کہ ہمارا یہ کام نصیحت ہے کہ نہ کہ غیبت۔ ۶ جون ۱۹۸۳ ایک مسلمان بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ہندوستان کے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا : ملک کی آزادی کے لئے ہم نے سب سے زیادہ قربانی دی اور ہمیں کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ میں نے کہا کہ آپ نے ایک صحیح بات کو غلط لفظ میں بیان کیا ہے۔ آپ کو یوں کہنا چاہئے کہ ملک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader