ڈائری
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
ذہن ہوائی جہاز بندے کی طرف منتقل ہو۔ اسی طرح دنیا میں جو چیزیں ہیں، ان میں ہر قسم کے سبق رکھ دئے گئے ہیں، دنیا کے فائدے کے بھی اور آخرت کے فائدے کے بھی۔ ۸ جون ۱۹۸۳ شیخ تاج الدین سبکی (م ۷۷۱ھ، ۷۱۲) نے اپنی کتاب طبقات الشافعیۃ الکبری میں لکھا ہے کہ امت کے ہر امام کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا کہ لوگوں نے ان کو نشانہ ملامت بنایا، اور اس کے نتیجہ میں ہلاک ہونے والے ہلاک ہوئے ( ما من امام الاوقد طعن فیہ طاعنون وھلک فیہ ھالکون) ایک چیز ہے اختلاف رائے۔ اور دوسری چیز ہے طعن۔ دلیل کے ساتھ اختلاف رائے کرنا عین جائز، بلکہ مفید ہے۔ مگر بے دلیل الزام لگانا اور شخصی عیب جوئی کرنا ہرگز جائز نہیں۔ اسی کا نام طعنہ زنی ہے۔ اور وہ بلاشبہ ایمان کے منافی ہے۔ ہر زمانے کے امام د بڑی شخصیتوں کے ساتھ طعنہ زنی کیوں کی گئی۔ اس کا واحد سبب حسد ہے۔ انسان اپنے سوا کسی اور کو بڑا ماننا نہیں چاہتا، اس لئے جب وہ کسی کو بڑا ہوتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کی عیب جوئی کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکالتا ہے۔ وہ واقعہ میں جب اپنے محسود کو چھوٹا نہیں کر پاتا تو لفظوں میں اسے چھوٹا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ منفی نفسیات کے زیر اثر وہ بھول جاتا ہے کہ اس طرح وہ خود اپنے آپ کو چھوٹا کر رہا ہے نہ کسی دوسرے کو۔ ۹ جون ۱۹۸۳ الرسالہ کے انداز پر تنقید کرتے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ آپ تو قوم کو بز دل بنا دینا چاہتے ہیں۔ حالانکہ علامہ اقبال نے کہا ہے: بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سب سے بڑی ٹریجیڈی یہ ہے کہ ان کے درمیان خیالی (Romantic) قسم کے رہ نما تھے۔ کوئی اقبال کی طرح شاعر تھا ، کوئی خطیب اور کوئی انشا پرداز۔ ان لوگوں نے حقائق پر دھیان نہیں دیا۔ بس الفاظ کے ذریعہ خیالی تصویریں بناتے رہے۔ مثلاً اقبال کا یہ شعر جسے آپ لوگ بڑی دھوم کے ساتھ پڑھتے ہیں، سراسر لغو ہے۔ اس کا حقیقت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader