ڈائری
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
سے کوئی تعلق نہیں۔ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تصویر یہ بتائی گئی ہے کہ وہ عشق سے سرشار ہو کر بطور خود بھڑکتی ہوئی آگ میں کود پڑے۔ حالانکہ یہ بات واقعہ کے بالکل خلاف ہے۔ اصل واقعہ کے مطابق، حضرت ابراہیم آگ میں جہر ڈاگئے گئے تھے، نہ کہ خود سے آگ میں کودے تھے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم کے دشمنوں نے باہم مشورہ سے یہ منصوبہ بنایا کہ انہیں آگ میں ڈال دو (قالوا حرقوه)، اور پھر آگ جلا کر اس میں انہیں پھینک دیا۔ (الانبياء ۶۸) روایات میں اس کی تفصیل آئی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے بڑی تعداد میں لکڑی جمع کی۔ اس کے بعد ایک گڑھے میں آگ دہکائی۔ پھر حضرت ابراہیم کو باندھ کر منجنیق میں رکھا اور اس کے ذریعہ ان کو آگ میں پھینک دیا (شم اوثقوا ابراهيم وجعلوه في منجنيق ورموه في النار ، صفوة التفاسير ، المجلد الثاني ، صفحه ۲۶۸) ۱۰ جون ۱۹۸۳ء شیعہ مذہب کا سارا انحصار اہلِ بیت کے تقدس پر ہے۔ مگر اہلِ بیت سے مراد ان کے نزدیک صرف حضرت فاطمہ اور ان کی اولاد ہے۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تین اور صاحبزادیاں تھیں ـــــ زینب ، رقیہ ، ام کلثوم۔ اور ظاہر ہے کہ اولادِ رسول ہونے کے اعتبار سے سب یکساں ہیں، اس لئے تقدس کے معاملہ کو صرف فاطمہ سے وابستہ کرنے کی کوئی شرعی یا عقلی وجہ نہیں۔ مگر انسان کا دماغ اپنے نقطہ نظر کو ثابت کرنے میں بہت زرخیز واقع ہوا ہے۔ چنانچہ کچھ شیعہ علماء نے اپنے مسلک کی ایک تاویل دریافت کرلی۔ انھوں نے کہہ دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی صاحبزادی صرف حضرت فاطمہ تھیں۔ بقیہ تین صاحبزادیاں (زینب ، رقیہ ، ام کلثوم) آپ کی حقیقی صاحبزادی نہ تھیں ، وہ حضرت خدیجہ کے پہلے شوہر کی اولاد تھیں۔ حالانکہ یہ صرف ایک دعویٰ ہے ، اس کا کوئی واقعی ثبوت موجود نہیں ۔ خود قرآن (الاحزاب ۵۹) میں پردہ کے حکم کے تحت یہ الفاظ آتے ہیں : يا ايها النبی قل لا زواجك وبناتك اس میں بنت کے بجائے بنات (جمع کا صیغہ) ہے جو بتاتا ہے کہ آپ کی صاحبزادیاں کئی تھیں ۔ سائنسی تحقیقات کے مطابق آنسوؤں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو ریت یا دھوئیں وغیرہ کے سبب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader