ڈائری
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
سے آنکھوں سے بہنے لگتے ہیں۔ یہ آنکھ کی صفائی کا قدرتی انتظام ہے۔ اس قسم کے آنسو انسانوں اور جانوروں دونوں میں پائے جاتے ہیں۔ آنسوؤں کی دوسری قسم وہ ہے جو جذباتی دباؤ یا نفسیاتی ہیجان کے وقت نکلتے ہیں۔ غم یا خوشی کا شدید احساس ہو تو اس وقت آنکھ بدن سے آنسو نکل پڑتے ہیں۔ یہ دوسری قسم کے آنسو صرف انسان کے اندر پائے جاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کا تعلق نازک احساسات سے ہے، اور جانوروں اس قسم کے نازک احساسات نہیں رکھتے۔ کہا جاتا ہے کہ غم واندر وہ کے تحت نکلے ہوئے آنسو دوسرے آنسوؤں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان کی کیمیائی ساخت مخصوص نوعیت کی ہوتی ہے جو دوسرے آنسوؤں میں نہیں پائی جاتی۔ میرے نزدیک آنسوؤں کی ایک تیسری قسم بھی ہے جس کو ”ربانی آنسو“ کہا جا سکتا ہے۔ یہ آنسو مذکورہ دونوں قسموں سے بالکل الگ ہوتے ہیں۔ وہ خدا کے ساتھ انسانی روح کے ارتباط سے ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب کہ بندہ بندہ رہتے ہوئے اپنے رب سے مل جاتا ہے، جب وہ موجودہ دنیا میں رہتے ہوئے حتمیاتی طور پر دوسری دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ اس وقت انسان حقیقت اعلیٰ کا براہ راست تجربہ کرتا ہے۔ تجربہ کے دوران اس کی روح پر جو ناقابل بیان احوال گزرتے ہیں، وہ خارجی طور پر آنسوؤں کی صورت میں بہہ نکلتے ہیں۔ ۱۲ جون ۱۹۸۳ء فلپ ڈور مراشتاں ہوپ کا قول ہے کہ موجودہ لوگوں کے بارہ میں تحقیر کے بغیر بولو، اور قدیم لوگوں کو بت بنائے بغیر ان کے بارہ میں کلام کرو۔ Speak of the moderns without contempt and of the ancients without idolatry. — Philip Dormer Stanhope انسان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی ہم زمانہ شخصیتوں کو حقیر سمجھتا ہے۔ وہ ان کے بارہ میں منصفانہ رائے قائم نہیں کر پاتا۔ اس کے برعکس، ماضی کی شخصیتوں کو وہ بت بنا لیتا ہے۔ وہ ان کے بارہ میں مبالغہ آمیز تنقید خوانی کرتا ہے۔ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ آدمی کو حقیقت پسندی اور انصاف پر قائم رہنا چاہئے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader