ڈائری
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
خواہ وہ ماضی کی تنقیدوں پر کلام کر رہا ہو یا حال کی شخصیتوں پر۔ ایک اجتماع کی تاریخ پر بعض لوگوں کو اعتراض تھا۔ اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ جون کا مہینہ اجتماع کرنے کے لئے بہت غیر موزوں ہے۔ مگر ایسا صرف وہ لوگ کہہ سکتے ہیں جو اس اجتماع کو عام قسم کا ایک سیمینار سمجھتے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے جس مقصد سے یہ اجتماع رکھا ہے اس کے لحاظ سے جون کا مہینہ موزوں ترین مہینہ ہے۔ یہ اجتماع ہم نے اس لئے رکھا ہے کہ یہ دیکھیں کہ کیا قوم میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو جون کی گرمی کو دیکھ کر جہنم کی گرمی کو یاد کریں۔ خدا کی جنت کا شوق جن کی نظر میں دنیا کی مصیبتوں کو بے قیمت کر دیتا ہو۔ اس چند روزہ تجربہ میں آپ کو جو تکلیفیں پہنچیں گی وہ اس سے بہت کم ہیں جو پچھلے حق پرستوں کو پہنچیں۔ اگر آپ اس معمولی مصیبت کو برداشت نہ کر سکیں تو آپ سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ آپ حق کی خاطر اس سے زیادہ قربانیاں دے سکتے ہیں۔ بنی اسرائیل کے قائد نے اپنی فوج کو پیاس کے باوجود دریا میں پانی پینے سے روک دیا۔ (بقره ۲۴۹) بدر کا غزوہ رمضان کے مہینہ میں پیش آیا۔ تبوک کا سفر ایسے وقت میں کرنا پڑا جبکہ فصلیں کاٹنے کے لئے بالکل تیار کھڑی تھیں۔ وغیرہ۔ اس قسم کے واقعات بالقصد اس لئے کئے گئے تاکہ پہلے ہی مرحلہ میں قوم کی استعداد کا اندازہ کر لیا جائے۔ اگر آپ ان معمولی مصیبتوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو یقیناً یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ سے اس کے آگے کی کوئی امید کرنا سخت تریں نادانی ہوگی۔ ۱۴ جون ۱۹۸۳ ایران کے قدیم بادشاہ کو مسلمانوں کے مقابلہ میں نہاوند کے مقام پر فیصلہ کن شکست ہوئی تھی۔ مورخ طبری کا بیان ہے کہ اس کے بعد اس نے چین کے بادشاہ کے پاس اپنا ایک قاصد بھیجا تاکہ مسلمانوں کے مقابلہ میں اس کی مدد حاصل کرے ۔ شاہ چین نے قاصد سے مسلمانوں کے اوصاف پوچھے ۔ اس کے بعد اس نے شاہ ایران کو خط لکھا: بادشاہوں کا فرض ہے کہ وہ مغلوب بادشاہوں کی درخواست پر ان کی مدد کریں۔ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader