Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

حائل ہیں، وہ پہاڑ کو بھی اپنی جگہ سے ہٹا دیں گے۔ جتی کہ میری حکومت کو ختم کرنا بھی ان کے لئے مشکل نہ ہوگا۔ اس لئے میری رائے ہے کہ تم ان سے صلح کر لو۔ ان کی برتری پر راضی ہو جانا اس سے بہتر ہے کہ ان سے ٹکراؤ کیا جائے۔ شاہ چین کا یہ تبصرہ اس بات کا اعتراف ہے کہ اس دنیا میں کسی قوم کی اصل طاقت اس کا کردار ہے نہ کہ تعداد اور فوجی ہتھیار۔ ۱۵ جون ۱۹۸۳ء قال الامام ابو حنيفة : اذا جاء الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فعلى الرأس والعين - واذا جاء عن الصحابة فعلى الرأس والعين . واذا جاء عن التابعين فهم رجال ونحن رجال۔ امام ابو حنیفہ نے کہا کہ جب کوئی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو سر آنکھوں پر۔ اور جب وہ صحابہ سے ملے تب بھی سر آنکھوں پر۔ اور جب وہ تابعین سے ملے تو وہ بھی آدمی ہیں اور ہم بھی آدمی ہیں۔ ۱۶ جون ۱۹۸۳ء ایک مسلمان مول اکثر سے ملاقات ہوئی۔ ان سے ہندستانی مسلمانوں کے مسائل پر گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو ان اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا چاہئے جن کو قرآن میں اعراض اور صبر اور یک طرفہ حسن کردار کہا گیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ یہ احکام مکی دور کے ہیں، جب کہ ابھی امت نہیں بنی تھی۔ امت بن جانے کے بعد جو تعلیم دی گئی ہے وہ جہاد ہے۔ اب ہم کو جہاد اور مقابلہ کے طریقہ پر عمل کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ ” امت “ بننے کا جو نظریہ آپ پیش کر رہے ہیں وہ بجائے خود قابل بحث ہے۔ تاہم اس سے قطع نظر، یہ بتائیے کہ قرآن میں یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ اعراض اور صبر جیسے احکام امت بننے سے پہلے کے لئے ہیں۔ امت بننے کے بعد کے لئے نہیں۔ امت بننے کے بعد جہاد و قتال کے حکم پر عمل کرنا ہے۔ وہ اپنے نقطۂ نظر کی تائید میں قرآن کی کوئی آیت پیش نہ کرسکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page