ڈائری
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ ” امت “ کا یہ تصور بالکل مفروضہ تصور ہے۔ اس کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔ اعراض کے بارے میں قرآن میں یہ آیت ہے کہ و اعرض عن الجاھلین (اعراف ۱۹۹) گویا اعراض اختیار کرنے کا سبب دوسروں کا جہل ہے ، نہ کہ امت بنایا نہ بننا۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کی ایذا رسانی پر صبر کرو اور ان کے برے سلوک کے باوجود ان سے اچھا سلوک کرو ، اس طرح جو تمہارا دشمن ہے وہ تمہارا دوست بن جائے گا (حم السجدہ ۳۵-۳۴) یہاں بھی اغیار کی ” عداوت “ کو وجہ صبر بنایا گیا ہے نہ کہ امت بننے یا نہ بننے کو۔ ۱۷ جون ۱۹۸۳ ہندوستان ٹائفس (۲۳ مئی ۱۹۸۳ ) کے صفحہ ۲۱ پر ایک مضمون چھپا ہے جس کا عنوان یہ ہے ــ اردشیر پہلی بار گیس کی روشنی بمبئی میں لائے : Ardshir brought gas lighting into Bombay. ارد شیر ایک پارسی تھا ۔ وہ مشہور واڈیا خاندان میں پیدا ہوا جو انیسویں صدی عیسوی میں پانی کا جہاز بناتا تھا جس کی ایک گا ہک ایسٹ انڈیا کمپنی بھی تھی۔ ارد شیر نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ اس کو ٹیکنکل چیزوں سے خاص دلچسپی تھی۔ اس نے انگلینڈ کا دورہ کیا تاکہ جدید مکینک سے واقفیت حاصل کرے ۔ واپس آکر اس نے ہندوستان میں بہت سے صنعتی منصوبے چلائے ۔ اس نے بمبئی میں پہلی بار چراغ کے بجائے گیس کی روشنی کو رائج کیا۔ مسلمانوں نے قدیم روایتی دور میں دنیا کو بہت سی نافع بخش چیزیں دی تھیں ۔ مثلاً کھیتوں کی سینچائی کے لئے چرخی کے بجائے رہٹ ، وغیرہ ، مگر دور جدید میں ان کا نام صرف لینے والوں کی فہرست میں درج ہے ، دینے والوں کی فہرست میں ان کا نام کہیں درج نہیں ۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس نے انھیں دور جدید میں بے قیمت کر دیا۔ ۱۸ جون ۱۹۸۳ کسی مفکر کا قول ہے ــ سیاسی مدبر وہ شخص ہے جو سوال کو جانتا ہے۔ اور سیاسی لیڈر وہ شخص ہے جو جوابات کو جانتا ہے : A statesman is a man who knows the question. A politician is a man who knows the answers.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader