ڈائری
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
مدبر ایک سنجیدہ انسان ہوتا ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں کچھ کرنا چاہتا ہے، اس لئے وہ سوالات مسائل کو جاننا چاہتا ہے تا کہ ان کو جان کر انھیں حل کرے۔ سیاسی لیڈروں کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ان کا مقصد صورت حال کا استحصال کرنا ہوتا ہے۔ وہ اپنی ذہانت صرف اس میں دکھاتے ہیں کہ جب کوئی شخص ان کے خلاف کوئی بات کہے تو فی الفور اس کا ایک مسکت جواب لفظوں میں ڈھال کر پیش کر دیں۔ ۱۹ جون ۱۹۸۳ ایک مطالعہ کے ذیل میں یہ حدیث سامنے آئی: عن ابی ہریرۃ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يزال البلاء بالمؤمن والمؤمنة في نفسه او ماله او ولده حتى يلقى الله وما عليه من خطيئة (الترمذی) حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن مرد اور مومن عورت پر مصیبتیں پڑتی رہتی ہیں، اس کے جان میں اور اس کے مال میں اور اس کی اولاد میں، یہاں تک کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس کے اوپر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ مصیبتوں کے ذریعہ خطاؤں کی معافی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مصیبت پڑنا آٹومیٹک طور پر خطاؤں کی معافی کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ بات دراصل اس انسان کے اعتبار سے کہی گئی ہے جو مصیبتوں کا استقبال ” مومن “ کی حیثیت سے کرے ۔ ایک شخص جس کے اندر ایمانی شعور زندہ ہو، اس کے لئے ہر مصیبت اس کو خدا سے مزید جوڑنے کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے ذریعہ سے اس کے اندر خدا کی یاد ابھرتی ہے۔ وہ اعلیٰ ایمانی کیفیات کا تجربہ کرتا ہے۔ وہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کا چاہنے والا بن جاتا ہے۔ ہر مصیبت اس کو قدرت خداوندی اور عجز انسانی کا سبق دیتی ہے۔ اس طرح وہ مصیبتوں کے ذریعہ معرفت کے مراحل طے کرتا رہتا ہے، اور پھر وہ اس حال میں خدا سے ملتا ہے کہ اس کی روح ربانی تجربات کے سمندر میں نہا کر مصفیٰ و مرٹیٰ روح بن چکی ہوتی ہے۔ ۲۰ جون ۱۹۸۳ ار اکان، بر ما کا ساحلی ضلع ہے جو بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) سے ملتا ہے۔ ۱۹۴۷ء میں برما کی سرحد پر مشرقی پاکستان وجود میں آیا تو ار اکان کے مسلمانوں نے غیر رسمی طور پر مشرقی پاکستان سے اپنا تعلق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader