Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

جوڑ نا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ار اکان کے مسلم علاقہ میں آزادی کی تحریکیں چل پڑیں۔ اس کے نتیجہ میں ار اکان کے مسلمان برما کی سوشلسٹ حکومت کی نظر میں معتوب ہو گئے۔ ان پر سختیاں کی جانے لگیں۔ ۱۹۷۸ میں تقریبا دو لاکھ آدمی ار اکان کو چھوڑ کر مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے علاقہ میں داخل ہونے پر مجبور ہو گئے۔ ار اکان کے مسلمانوں کی تحریک آزادی بلاشبہ ایک احمقانہ تحریک تھی۔ مگر اس کو روکنے کے لئے کوئی مسلمان لیڈر نہیں اٹھا۔ البتہ جب اپنی حماقت کے نتیجہ میں وہ "مفلوج" ہو گئے تو تمام مسلمان لیڈروں نے ان کی حمایت میں بیان دینا شروع کر دیا۔ اخبار ریڈنس (ا جون ۱۹۷۸) نے اپنے صفحہ اول کے ایک مضمون میں بتایا تھا کہ برما میں مسلمانوں کی تعداد تقریبا ۳ ملین ہے۔ وہ برما کی کل آبادی کا ۱۰ فی صد ہیں۔ وہ ملک کی دوسری سب سے بڑی کمیونٹی ہیں۔ ار اکان ضلع کے مسلمان منظم منصوبہ کے تحت ہٹائے جا رہے ہیں۔ اور ان کو ان کی املاک سے محروم کیا جا رہا ہے۔ ریڈنس نے مزید لکھا ہے کہ ایوب خاں کے زمانہ حکومت میں وہ سابق مشرقی پاکستان جانے پر مجبور کر دئے گئے تھے۔ سابق فوجی حکمراں (ایوب خاں) نے وارنگ دی کہ مجھے امید ہے کہ ہرما یہ نہیں چاہتا کہ ہماری فوجیں سرحد کو پار کریں۔ اس وارنگ نے مسلمانوں کے خاتمہ کے عمل کو روک دیا ، اگرچہ تھوڑی مدت کے لئے ؛ During the days of Mr Ayub Khan, they were physically pushed into what was once East Pakistan. The Late Military General’s warning “I hope you don't want our forces to cross the border" stopped Muslim extermination, but only for a short period. (p. I). یہ مدت مختصر کیوں رہی۔ اس کی ذمہ داری برما پر نہیں بلکہ خود مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستان میں صدر ایوب کے خلاف پر شور تحریک اٹھائی گئی جس میں مشر بھٹو کے ساتھ اسلام پسند گروہ کے لیڈر سید ابو الائلی مودودی بھی پوری طرح شریک تھے۔ اس کے نتیجہ میں صدر ایوب کو استعفا دینا پڑا ۔ اس کے بعد ایسے حالات پیش آئے کہ پاکستان برابر کمزور ہو تا چلا گیا۔ یہاں تک کہ وہ اس قابل نہ رہا کہ اس کی ایک "دھمکی" پر برما کی حکومت متزلزل ہو جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page